
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ عراق کے سیکیورٹی عہدیدار ابو مجاہد العساف نے کہا ہے کہ امریکی سفارتخانے اور اس کے عملے کی سیکیورٹی اس بات سے مشروط ہے کہ امریکہ عراق کے کسی بھی رہائشی علاقے کو نشانہ نہ بنائے۔
انہوں نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ثابت قدمی نے جنگ کا کایا پلٹ کر رکھ دیا۔
العساف نے کہا کہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باوجود مزاحمتی محاذ نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ ایک واضح فتح کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف محاذوں پر مزاحمتی قوتوں کے درمیان اتحاد نے دشمن پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کے باعث اب ایک نئے نظام کے تحت مزید مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل بھی حزب اللہ عراق نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ چالاکی سے ان کے عزم کو کمزور کر سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے، کیونکہ وہ ایسی سوچ کے حامل ہیں جو نہ شکست کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی ہتھیار ڈالتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایک کمانڈر کے ہاتھ سے جھنڈا گر بھی جائے تو دوسرا اسے زیادہ مضبوطی کے ساتھ اٹھا لیتا ہے، اور ایران و لبنان میں ہونے والے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مزاحمت کے سامنے بڑی طاقتوں کے منصوبے ناکام ہو رہے ہیں۔
