
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے تہران ایمرجنسی سروس کے دورے کے دوران امداد و نجات کے شعبے میں ادارے کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے جنگی حالات میں متاثرین کی مدد کے لیے شب و روز خدمات انجام دینے پر عملے کو خراج تحسین پیش کیا۔
ملکی اداروں کے جائزے کے لئے کئے جانے والے دوروں کے سلسلے میں صدر نے اچانک تہران ایمرجنسی کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے ایمرجنسی کے سربراہ اور آپریشنل کمانڈرز سے تفصیلی بریفنگ لی اور جنگی حالات میں زخمیوں کو امداد فراہم کرنے کے عمل کا جائزہ لیا، جبکہ امدادی اہلکاروں کی مسلسل محنت کو سراہا۔
صدر نے امدادی خدمات میں ایمرجنسی کے نمایاں کردار، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 40 روزہ جنگ کے دوران اس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے قومی بحران سے نمٹنے کا ایک اہم ستون قرار دیا۔
دورے کے دوران انہوں نے ایمرجنسی کے عملے سے ملاقات کی اور ان کے مسائل، چیلنجز اور ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ زمینی جائزوں سے ثابت ہوا ہے کہ جنگ کے دوران ایمرجنسی خدمات میں کسی قسم کی کمی محسوس نہیں ہوئی اور عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی خلل نہیں آیا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایمرجنسی عملے کی مستقل موجودگی، قربانی اور تیاری ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے جس کی اہمیت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام، حکام اور سرکاری اہلکاروں میں یہی جذبہ برقرار رہا تو قومی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا اور کوئی بھی قوت اس قوم کو شکست نہیں دے سکے گی۔
صدر نے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے باوجود ایران کے اصولی مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور عدم استحکام کا خواہاں نہیں بلکہ ہمیشہ بات چیت اور تعمیری روابط پر زور دیتا ہے، تاہم کسی بھی قسم کا دباؤ یا ملک کو جھکانے کی کوشش ناکام ہوگی اور ایرانی عوام اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے عالمی نظام میں دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک کے خلاف فوجی کارروائیاں عالمی اصولوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران پر حملہ کس جواز کے تحت کیا گیا؟ شہریوں، ماہرین، بچوں کو نشانہ بنانے اور اسکولوں و اسپتالوں جیسے اہم مراکز کو تباہ کرنے کا کیا جواز ہے؟
صدر نے قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 40 روزہ مزاحمت کے دوران عوام کے بے مثال اتحاد نے دشمن کو اپنے ناپاک مقاصد میں ناکام بنایا اور تمام محب وطن افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی تاریخی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے قومی اتحاد اور مفادات کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔
