جاوید جمال الدین

ہندوستانی سیاست میں خواتین ریزرویشن بل ایک بار پھر زبردست بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس بل کی ناکامی نے جہاں حکومت کے دعوؤں کو دھچکا پہنچایا ہے، وہیں اس کے پس پردہ سیاسی محرکات پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ لوک سبھا میں دو دن تک جاری رہنے والی گرما گرم بحث کے بعد جب ووٹنگ ہوئی تو حکومت مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ بل کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ووٹ پڑے، جبکہ منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ اس طرح یہ آئینی ترمیمی بل ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد ہو گیا، جسے حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی ناکامی تصور کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے اس بل کو خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک “تاریخی قدم” قرار دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں اپیل کی کہ اس معاملے کو سیاست سے بالاتر رکھا جائے اور خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے اس موقع کو ضائع نہ کیا جائے۔ اسی طرح مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے اسے خواتین مخالف ذہنیت کا مظہر قرار دیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن سے خواتین کی شرکت میں انقلابی اضافہ ہوگا اور یہ جمہوریت کو مزید مضبوط بنائے گا۔
لیکن اپوزیشن نے اس بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اسے “ملک مخالف” قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل دراصل خواتین کے حقوق کا نہیں بلکہ انتخابی نقشہ تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کے مطابق، حد بندی کو اس بل کے ساتھ جوڑ کر سیاسی توازن کو متاثر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اسے بی جے پی کی ایک “سیاسی چال” قرار دیا اور کہا کہ مردم شماری میں تاخیر اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ پسماندہ طبقات کی حقیقی نمائندگی کو محدود رکھا جا سکے۔
اسی سلسلے میں پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بل کے وقت، ڈھانچے اور نفاذ کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے۔ خاص طور پر او بی سی، دلت اور مسلم خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے پائی جانے والی غیر وضاحت کو ایک بنیادی خامی قرار دیا گیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر ریزرویشن واقعی شمولیت کا ذریعہ ہے تو اس میں سماجی توازن اور انصاف کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں ایک اہم پہلو وہ ہے جس نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا، یعنی حد بندی (Delimitation) کا معاملہ۔ حکومت نے خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ حد بندی کا بل بھی پیش کیا، حالانکہ ملک میں ابھی مردم شماری مکمل نہیں ہوئی۔ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھاوال نے آئین کی 131ویں ترمیم کے طور پر اس بل کو پیش کیا، جس نے اپوزیشن کے شکوک کو مزید تقویت دی۔ پارلیمانی امور کے وزیرکرن جیجو نے وضاحت دی کہ بل ابھی بحث کے مراحل میں ہیں، لیکن اپوزیشن نے اسے ایک منظم سیاسی حکمت عملی قرار دیا۔
ان تمام سیاسی بیانات کے درمیان سب سے زیادہ توجہ سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو کے مؤقف نے حاصل کی، جنہوں نے اس بل کو کھلے الفاظ میں بی جے پی کا “سیاسی سٹنٹ” قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ بل خواتین کو فوری طور پر ریزرویشن دینے کے بجائے اسے 2029 یا حتیٰ کہ 2039 تک مؤخر کرنے کی ایک چال ہے۔ حد بندی کی شرط شامل کر کے اس عمل کو دانستہ طور پر پیچیدہ بنایا گیا ہے تاکہ اس کا نفاذ غیر یقینی ہو جائے اور سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
یوگیندر یادو نے مزید خبردار کیا کہ حد بندی کی اس مشق سے ملک کے وفاقی ڈھانچے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے کچھ ریاستوں کو فائدہ اور دیگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر جنوبی ہندوستان کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوری توازن کے خلاف ہے اور اس کا اصل مقصد انتخابی مفادات کا حصول ہے، نہ کہ خواتین کو بااختیار بنانا۔ انہوں نے اس پورے عمل کو “پروپیگنڈہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے نام پر عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ حقیقت میں اس کا نفاذ غیر واضح رکھا گیا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اصولی طور پر خواتین ریزرویشن کی مخالف نہیں ہیں۔ ان کا اعتراض صرف اس کے ڈھانچے، وقت اور نفاذ کے طریقۂ کار پر ہے۔ اگر یہی بل واضح سماجی نمائندگی، مردم شماری کی بنیاد اور بغیر حد بندی کی پیچیدگی کے ساتھ پیش کیا جاتا تو شاید اس کی مخالفت اتنی شدید نہ ہوتی۔اصل سوال یہی ہے کہ نمائندگی کی تعریف کیا ہے؟ کیا صرف نشستوں کی تعداد بڑھا دینا کافی ہے، یا اس میں سماجی انصاف، توازن اور شمولیت بھی شامل ہونی چاہیے؟ اگر پسماندہ طبقات کی خواتین کو مناسب حصہ نہیں ملتا تو یہ بل اپنی اصل روح سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے اس پوری بحث کی سنجیدگی بڑھ جاتی ہے اور یہ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ایک نظریاتی مسئلہ بن جاتا ہے۔
مزید یہ کہ اس بل کے ساتھ جڑی ہوئی تاخیر بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر واقعی خواتین کو نمائندگی دینا مقصد تھا تو اسے فوری طور پر نافذ کیوں نہیں کیا گیا؟ حد بندی اور مردم شماری کی شرائط کو شامل کر کے اس عمل کو طویل بنانا ناقدین کے مطابق نیت پر شکوک پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین اسے ایک طویل المدتی سیاسی منصوبہ قرار دے رہے ہیں جس کا تعلق آنے والے انتخابات سے جوڑا جا رہا ہے۔لوک سبھا میں اس بل کی ناکامی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جمہوریت میں صرف اکثریت کافی نہیں، بلکہ اعتماد، شفافیت اور نیت بھی اہم ہوتی ہے۔ حکومت کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن اپوزیشن اور ماہرین کی تنقید بھی مکمل طور پر بے بنیاد نہیں کہی جا سکتی۔
آخرکار، خواتین ریزرویشن بل ایک اہم اور ضروری قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس حد تک منصفانہ، شفاف اور جامع بنایا جاتا ہے۔ اگر اس میں تمام طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے تو یہ واقعی ایک تاریخی اصلاح ثابت ہو سکتا ہے، بصورت دیگر یہ محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔فی الحال یہ بل پارلیمنٹ میں ناکام ضرور ہوا ہے، مگر اس نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے—ایسی بحث جو آنے والے وقت میں ہندوستانی سیاست کی سمت متعین کر سکتی ہے۔ عوام اب پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں اور وہ محض نعروں کے بجائے عملی اقدامات کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے کسی بھی بل کو نہ صرف سیاسی بلکہ عوامی کسوٹی پر بھی پرکھا جائے گا۔
یہ فیصلہ اب عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے حقیقی اصلاح سمجھتے ہیں یا ایک اور سیاسی حکمت عملی۔ جمہوریت کی اصل طاقت بھی یہی ہے کہ آخرکار عوام ہی طے کرتے ہیں کہ کون سا قدم ان کے مفاد میں ہے اور کون سا نہیں۔
