فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) ایک بڑی ایجنسی ہے جس میں تقریباً 38,000 ملازمین کام کرتے ہیں۔ اس کے ڈائریکٹر کاش پٹیل سے متعلق جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس سے ایجنسی کے اندر ہلچل مچ گئی ہے۔


i
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس نے سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ اس میں کئی سنگین دعوے کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کاش پٹیل کے رویہ، کام کاج اور نجی عادات پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 10 اپریل کو جب وہ ویک اینڈ کے لیے دفتر سے نکل رہے تھے تو وہ ایک اندرونی کمپیوٹر سسٹم میں لاگ اِن نہیں ہو سکے۔ انھوں نے سمجھا کہ انھیں ملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ گھبرا گئے اور اپنے ساتھیوں کو فون کر کے بتایا کہ انہیں ہٹا دیا گیا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ صرف ایک تکنیکی خرابی تھی اور انہیں ملازمت سے نہیں نکالا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) ایک بڑی ایجنسی ہے جس میں تقریباً 38,000 ملازمین کام کرتے ہیں۔ اس کے سربراہ کے فکر انگیز رویّے سے ایجنسی کے اندر ہلچل مچ گئی ہے۔ کئی افسران نے وائٹ ہاؤس تک فون کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اب ایجنسی کا سربراہ کون ہے۔ یہ دعویٰ ’دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاش پٹیل کو اپنی ملازمت جانے کا خوف لاحق رہتا ہے۔
کچھ افسران کے مطابق اس کے پیچھے ان کی مبینہ شراب نوشی کی عادت ایک اہم وجہ ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ کئی بار زیادہ شراب پی لیتے ہیں جس سے ان کا رویہ غیر معمولی ہو جاتا ہے اور وہ کچھ وقت کے لیے غائب بھی ہو جاتے ہیں۔ کئی مواقع پر ان کی سیکورٹی ٹیم کو انہیں جگانے میں دشواری ہوئی کیونکہ وہ نشے کی حالت میں تھے۔ ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ وہ کمرے کے اندر بند تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، تب دروازہ توڑنے کے لیے خاص آلات منگوانے پڑے۔
رپورٹ کے مطابق اس کا اثر ان کے کام کاج پر بھی پڑا ہے۔ کئی بار میٹنگ اور بریفنگ دیر سے کرنی پڑیں۔ کچھ افسران کا کہنا ہے کہ وہ ضروری فیصلے وقت پر نہیں لیتے جس سے تحقیقات میں تاخیر ہوتی ہے۔ بعض معاملات میں انہوں نے مکمل معلومات کے بغیر عجلت میں فیصلے کیے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ لوگ ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹیل نے کم وقت میں اچھا کام کیا ہے اور جرائم کم کرنے میں تعاون دیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ خود کاش پٹیل نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بے بنیاد باتیں ہیں۔
بہرحال، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کاش پٹیل کی قیادت میں کئی ملازمین کو ہٹا دیا گیا، جس سے ایجنسی میں تجربے کی کمی ہو گئی ہے اور کام کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کچھ افسران کو خدشہ ہے کہ اس کا اثر ملک کی سلامتی پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ بیرونی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔
