تروولور ضلع کے پونیری میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں حال ہی میں لایا گیا ایک بل تمل ناڈو کی سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘


i
کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ہفتہ (18 اپریل) کو تمل ناڈو میں اپنی انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔ تروولور ضلع کے پونیری میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حال ہی میں لایا گیا ایک بل تمل ناڈو کی سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ جس بل کو خواتین ریزرویشن کے نام پر پیش کیا گیا، اس کا اصل مقصد حد بندی کے ذریعہ تمل ناڈو کی لوک سبھا سیٹوں کو کم کرنا تھا۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ قدم جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کی نمائندگی کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی ریاست کی شناخت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران جذباتی انداز میں کہا کہ اگرچہ ان کی پیدائش تمل ناڈو میں نہیں ہوئی، لیکن وہ خود کو ریاست کے لوگوں سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں اور ریاست کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق ان کے والد راجیو گاندھی نے تمل ناڈو کے لیے اپنا سب کچھ دے دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستان ریاستوں کا ایک وفاق ہے، تمام ریاستوں کو اپنی شناخت اور زبان برقرار رکھنے کا حق ہے۔ لیکن یہ حکومت تمل زبان اور ثقافت کو مٹانا چاہتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی ریاست کی شناخت کو دبانے کی کوشش آئین کے خلاف ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ تمل ناڈو کے لوگوں کے جذبات کو نہیں سمجھتے، اور نہ ہی انہیں تمل عوام کی ہزاروں سالہ تاریخ کے متعلق کوئی علم ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق بی جے پی تمل ناڈو کو دہلی سے چلانا چاہتی ہے۔ بی جے پی تمل ناڈو میں ایک ایسا وزیر اعلیٰ چاہتی ہے جو دہلی سے آرڈر لے سکے اور انہی کے اشاروں پر کام کرے۔
جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کل پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت نے ایک نیا بل پیش کیا۔ انہوں نے اسے خواتین ریزرویشن بل بتایا، لیکن وہ تو 2023 میں ہی منظور ہو چکا تھا۔ اس بل کے پیچھے چھپا اصل ایجنڈا حد بندی تھا۔ اس کا مقصد ہندوستان کی پارلیمنٹ میں تمل ناڈو کی نمائندگی کو کم کرنا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کو کمزور کرنا تھا۔ ہم نے کل پارلیمنٹ میں اس بل کو ہرا دیا۔
بی جے پی کے طرز حکومت پر تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جب وزیراعظم ایک قوم، ایک لیڈر، ایک زبان اور ایک عوام کی بات کرتے ہیں، تو وہ ہندوستان کے آئین پر حملہ کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘ انتخابات سے قبل انڈیا بلاک کی حمایت کرتے ہوئے راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ یہ اتحاد مرکزیت پسندی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گا۔ تمل ناڈو کو اپنا مستقبل خود طے کرنا ہوگا اور ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی زبان، ثقافت اور حقوق کا تحفظ کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو اسمبلی انتخاب 23 اپریل کو ایک ہی مرحلہ میں منعقد ہونے والا ہے اور ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ اہم انتخابی مقابلہ ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (ایس پی اے) اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے درمیان ہونے کا امکان ہے، جس میں بی جے پی اور پٹالی مکل کچی (پی ایم کے) اتحادی ہیں۔ اداکار سے سیاست داں بنے وجے کی قیادت والی ’ٹی وی کے‘ ریاستی انتخابات کو سہ فریقی مقابلے میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
