29 سال بعد ملا انصاف: الہٰ آباد ہائی کورٹ کا بجلی بورڈ کو 26 لاکھ معاوضہ دینے کا حکم

مارچ 1997 میں متاثرہ کی عمر تقریباً 7 سال تھی، وہ آگرہ کے نگلا پاڑی علاقے میں ایک پرائمری اسکول کے پاس نصب 11 ہزار وولٹ کے ٹرانسفارمر کی زد میں آ گیا تھا، جس کے سبب اس کے دونوں ہاتھ ضائع ہو گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

اترپردیش میں تقریباً 3 دہائی قبل محکمہ بجلی کی لاپرواہی کا شکار ہوئے ایک شخص کو اب جا کر انصاف ملا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایک ایسے شخص کو 26.65 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے، جس نے آج سے 29 سال قبل بجلی سے متعلق ایک حادثہ میں اپنے دونوں ہاتھ گنوا دیے تھے۔ عدالت نے اس معاملے میں اترپردیش ریاستی بجلی بورڈ کو لاپرواہی کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔ جسٹس سندیپ جین نے یہ حکم متاثرہ پپو کی جانب سے داخل کی گئی پہلی اپیل کو قبول کرتے ہوئے دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 2005 کے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا، جس میں متاثرہ کو معاوضہ دینے انکار کر دیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعہ مارچ 1997 کا ہے۔ اس وقت متاثرہ پپو کی عمر تقریباً 7 سال تھی اور وہ آگرہ کے نگلا پاڑی علاقے میں ایک پرائمری اسکول کے پاس نصب 11 ہزار وولٹ کے ٹرانسفارمر کی زد میں آ گیا تھا۔ یہ ٹرانسفارمر بغیر کسی گھیرا بندی یا حفاظتی کور کے لگا ہوا تھا۔ ٹرانسفارمر کی زد میں آنے اور کرنٹ سے جھلسنے کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ اس کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کو اس کے دونوں ہاتھ کندھوں کے نیچے سے کاٹنے پڑے تھے۔ محکمہ بجلی کی لاپرواہی کو لے کر متاثرہ کے والد عدالت گئے۔ ان کی جانب سے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن اکتوبر 2005 میں ٹرائل کورٹ نے معاوضے کے مطالبے کو خارج کر دیا تھا۔ عدالت نے اس وقت اس واقعے کے لیے بچے کی لاپرواہی کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے متاثرہ شخص نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

الہٰ آباد ہائی کورٹ نے اپیل قبول کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ ٹرائل کورٹ کا پچھلا فیصلہ درست نہیں تھا اور اس نے بجلی کے محکمے کے حکام کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا۔ عدالت نے اتر پردیش اسٹیٹ الیکٹرسٹی بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ متاثرہ شخص کو 26.65  لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے۔ اس کے ساتھ ہی، 30 مئی 1997 (جس تاریخ کو کیس دائر کیا گیا تھا) سے لے کر معاوضے کی رقم کی ادائیگی تک، اس رقم پر 6 فیصد سالانہ کی شرح سے سود دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ متاثرہ شخص کو مقدمہ بازی کے اخراجات بھی ادا کیے جائیں، جس میں ٹرائل اور اپیل کے دوران عدالت میں جمع کرائی گئی فیس بھی شامل ہے۔ 15 اپریل کو دیے گئے اپنے حکم میں، ہائی کورٹ نے بجلی بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ یہ رقم ایک ماہ کے اندر جمع کرائے۔ اگر بورڈ ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو درخواست گزار کے پاس بقایا رقم کی وصولی کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے کا مکمل حق ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *