
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملوں کو تقریبا چار ہفتے گزر چکے ہیں۔ اس دوران خلیج فارس کے ایک چھوٹے ملک بحرین کا کردار خاصی توجہ اور تشویش کا باعث بنا ہے۔ بحرین نے نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ عملی طور پر بھی حملہ آوروں کا ساتھ دیا اور اپنی تنصیبات اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے کر ایران کے خلاف کارروائیوں کا حصہ بن گیا۔ بین الاقوامی قانون اور اسٹریٹیجک نقطۂ نظر سے یہ اقدام محض سیاسی حمایت نہیں بلکہ ایک فوجی کارروائی میں براہ راست شمولیت کے مترادف سمجھا جاسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحرین گزشتہ برسوں میں امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی اور فوجی تعلقات کے باعث واشنگٹن کے اثر و رسوخ میں آچکا ہے۔ ملک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی نے اسے ایک عملیاتی مرکز کی حیثیت دے دی ہے، جس کے نتیجے میں حساس مواقع پر بحرین ایک متوازن کردار ادا کرنے کے بجائے بیرونی طاقتوں کے اہداف کے مطابق عمل کرتا دکھائی دیتا ہے۔
بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف دو قراردادوں کے مسودے پیش کرکے بین الاقوامی فورمز کو بھی اس تنازع میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ مبصرین کے مطابق ایران پر ہونے والے حملے اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، اس کے باوجود بحرین نے کشیدگی کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرنے والا مؤقف اختیار کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو خود بحرین کی سکیورٹی ہے۔ ایران خطے کی ایک بڑی طاقت ہے جس نے حالیہ برسوں میں میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں صلاحیت حاصل کی ہے۔ دوسری طرف بحرین ایک چھوٹا ملک ہے جس کی دفاعی صلاحیت محدود ہے اور اس کی سلامتی بڑی حد تک بیرونی حمایت پر منحصر ہے۔ اگر خطے میں براہِ راست کشیدگی یا تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی تو طاقت کے اس عدم توازن کے باعث بحرین کو سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسی وجہ سے بحرین کو اپنی موجودہ پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بڑے بحران کا شکار ہونے سے بچ سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بیرونی حمایت پر حد سے زیادہ انحصار ہمیشہ سنجیدہ خطرات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ خطے کی تاریخی مثالیں بتاتی ہیں کہ بڑی طاقتیں بحران کے وقت سب سے پہلے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں، ضروری نہیں کہ وہ اپنے چھوٹے اتحادیوں کے تحفظ کو ہی اولین اہمیت دیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل خود ایران کی فوجی صلاحیتوں کے مقابلے میں بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ خیال کہ یہ دونوں ممالک ایران کے ممکنہ ردعمل کے مقابلے میں بحرین کی سلامتی کی مکمل ضمانت دے سکتے ہیں، حقیقت سے زیادہ ایک خطرناک خوش فہمی معلوم ہوتا ہے۔ اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے مطابق ہر دس ایرانی میزائلوں میں سے آٹھ اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی جارحانہ صلاحیت کے مقابلے میں مؤثر دفاع موجود نہیں، اور اگر خلیج فارس کے چھوٹے ممالک ایران کے خلاف کسی کارروائی میں شامل رہتے ہیں تو یہ ان سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
بحرین کا اس حد تک کشیدگی میں شامل ہونا اس ملک کے اندرونی حالات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ بحرین کا معاشرہ مختلف گروہوں پر مشتمل ہے جو ہمیشہ خطے کی صورتحال پر حساس ردعمل دیتے رہے ہیں۔ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا اندرونی اختلافات کو بڑھا سکتا ہے اور سماجی بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ خطے کی غیر مستحکم صورتحال میں یہ عوامل اندرونی بحرانوں کو مزید شدت دے سکتے ہیں۔
ان حالات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بحرین کو اپنی موجودہ پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ راستے پر چلتے رہنے سے نہ صرف یہ ملک سکیورٹی خطرات سے دوچار ہوسکتا ہے بلکہ منامہ ایک بڑے علاقائی بحران کا حصہ بھی بن سکتا ہے جس کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
اس پالیسی میں تبدیلی چند طریقوں سے ممکن ہے۔ پہلی بات یہ کہ بحرین اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روک دے۔
سفارتی سطح پر متوازن مؤقف اختیار کرے اور بین الاقوامی اداروں میں اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرے۔
کشیدگی بڑھانے کے بجائے غیر جانبدار یا تناؤ کم کرنے والا کردار ادا کرنے کی کوشش کرے۔
