ایران سے طویل جنگ کسی کے حق میں نہیں، امریکی حلقوں میں تشویش، ٹرمپ کے سابق مشیر کا انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر جارج پاپادوپولوس نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نہیں چاہتی کہ ایران کے ساتھ تنازع تین ماہ سے زیادہ جاری رہے، کیونکہ یہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ جنگ کا طویل ہونا خاص طور پر امریکہ کی داخلی سیاسی صورتحال پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، بالخصوص انتخابات کے تناظر میں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ صورتحال امریکہ، یورپ اور اسرائیل کسی کے لیے بھی سودمند نہیں۔

دوسری جانب امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی حالیہ بیان میں اس جنگ کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو چار ہفتے گزر چکے ہیں اور آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال پہلے سے قابل پیش گوئی تھی، لیکن اس کے باوجود ٹرمپ کے پاس نہ تو کوئی واضح منصوبہ تھا اور نہ ہی اب اس بحران سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی موجود ہے۔

یاد رہے کہ سینیٹر کرس مرفی اس سے قبل ایک قرارداد کا مسودہ بھی امریکی سینیٹ میں پیش کر چکے ہیں، جس میں صدر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری حاصل کی جائے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *