مشرقی ہمسایہ ممالک افغانستان اور پاکستان اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں، رہبر معظم کا پیغام

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے عید الفطر اور نئے ایرانی سال کے آغاز کی مناسبت سے اپنا پیغام جاری کیا ہے۔

اپنے پیغام میں آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے ایرانی عوام اور امت مسلمہ کو مبارک باد پیش کی اور حالیہ جنگ اور گذشتہ سال سے اب تک ہونے والے واقعات میں شہید امام خامنہ ای اور دیگر کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔

انہوں نے مشرقی ہمسایہ ممالک کے بارے میں کہا کہ جو بات میں نے اپنے پہلے بیان میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط کے بارے میں نظام کے نقطۂ نظر اور پالیسی کے حوالے سے ذکر کی تھی، وہ ایک سنجیدہ اور حقیقی امر ہے۔ ہمسائیگی کے عنصر کے علاوہ بھی کئی روحانی اور معنوی عوامل ہیں جو ہمارے درمیان مشترک ہیں۔ ان میں سب سے اہم اسلام کا مقدس اور مشترک دینی عقیدہ ہے۔ اسی طرح بعض ممالک میں مقدس مزارات اور متبرک مقامات کی موجودگی، بعض میں بڑی تعداد میں ایرانیوں کا رہائش پذیر یا ملازمت کرنا، اور بعض میں مشترک قومیت، مشترک زبان یا مشترکہ اسٹریٹجک مفادات خصوصا استکبار کے محاذ کے مقابلے میں، ایسے عوامل ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

رہبر معظم نے کہا کہ ہم اپنے مشرقی ہمسایوں کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں۔ میں بہت پہلے سے پاکستان کے بارے میں جانتا تھا کہ یہ وہ ملک ہے جس سے ہمارے شہید رہبر کو خاص محبت تھی۔ اس کی ایک مثال وہ لمحہ تھا جب پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث ہمارے مسلمان بھائیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا تو نماز جمعہ کے خطبوں میں ان کی آواز رندھ گئی تھی۔ میں بھی مختلف وجوہات کی بنا پر ہمیشہ اسی طرح سوچتا تھا اور مختلف نشستوں میں اس بات کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کیا۔

آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے پاکستان اور افغانستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہاں میں درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے دو برادر ممالک افغانستان اور پاکستان، اللہ کی رضا اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ سے بچنے کی خاطر اپنے باہمی تعلقات کو بہتر بنائیں۔ میں اپنی طرف سے اس سلسلے میں ضروری اقدامات کے لیے تیار ہوں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *