طالبان کے زیر انتظام افغانستان ناکام پالیسیوں کے گرداب میں

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا ہے کہ ایشیا کے اس خطے میں استحکام کس قدر نازک ہے اور یہ بڑی حد تک حکومتوں کے ذمہ دارانہ یا غیر ذمہ دارانہ فیصلوں پر منحصر رہتا ہے۔ طالبان حکومت کی افواج اور پاکستانی فوج کے درمیان سرحدی علاقوں میں ہونے والی شدید جھڑپیں، فضائی بمباری اور عام شہریوں کی ہلاکتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ معاملہ محض ایک سادہ سرحدی تنازع نہیں بلکہ غلط پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔

ماہرین کے مطابق دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے طالبان حکومت کی پالیسی، تاریخی سرحدی تنازعات اور بھارت جیسے علاقائی کرداروں کے ساتھ تعلقات نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث افغانستان کے اپنے قومی مفادات اور اس کے پڑوسی ممالک خصوصا ایران کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ڈیورنڈ لائن نوآبادیاتی میراث یا موجودہ تنازع کی بنیاد

افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہے۔ تقریباً 2640 کلومیٹر طویل یہ سرحد 1893 میں امیر عبدالرحمان خان اور برطانوی نمائندے کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت قائم کی گئی تھی۔

تاریخی طور پر کابل کی کسی بھی حکومت نے اسے حتمی اور باضابطہ سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ افغان مؤقف کے مطابق یہ معاہدہ نوآبادیاتی دباؤ کے تحت طے پایا تھا اور 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد اس کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی۔ یہی اختلاف آج بھی دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اور کشیدگی کے بنیادی عوامل میں شمار ہوتا ہے۔

موجودہ حالات میں اہم بات یہ ہے کہ طالبان اس پرانے مسئلے کو کس انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ طالبان حکومت کے وزیرِ دفاع محمد یعقوب مجاہد نے صاف کہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے ڈیورنڈ لائن کو دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سرحد مانا جائے، لیکن طالبان اس مطالبے کو رد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے، جسے ابھی تک کوئی افغان حکومت حل نہیں کرسکی۔

پہلی نظر میں یہ موقف قومی مفاد کا حصہ لگتا ہے، مگر جب دیکھا جائے کہ طالبان اپنے ملک میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہے، تو یہ رویہ بالکل مختلف معنی اختیار کرلیتا ہے۔ پاکستان نے پچھلی کئی دہائیوں میں اپنے سرحدی علاقوں میں ناامنی کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اسی وجہ سے اس نے 2017 میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ باڑ لگانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ کابل نے اس پر احتجاج کیا، لیکن اس اقدام کا مقصد افغانستان کی طرف سے دہشت گردوں اور سمگلروں کی دراندازی کو روکنا تھا۔

طالبان ایک طرف سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے، اور دوسری طرف ملک کے اندر مسلح گروہوں پر قابو پانے میں ناکام ہیں یا اس ارادے کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک غیر یقینی علاقہ قائم رہتا ہے جو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے، اور پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ اگر طالبان واقعی دعوی کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کی مکمل سرزمین پر حکومت رکھتے ہیں، تو انہیں یہ ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی کہ سرحدوں کی حفاظت کریں اور دہشت گردوں کو اپنی زمین استعمال کرنے سے روکیں۔ ڈیورنڈ لائن جیسے پرانے مسئلے کو اپنی ناکامیوں کی وضاحت کے طور پر پیش کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ ہمسائیگی کے اخلاقی اصولوں کے خلاف بھی ہے۔

افغانستان ٹی ٹی پی کے لیے محفوظ پناہ گاہ

پاکستان کی جانب سے طالبان حکومت پر سب سے سنگین الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) یعنی پاکستانی طالبان کو پناہ اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جو پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر مہلک دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور پاکستانی حکام کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے رہنما اور جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور قیادت کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندے نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردی پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اسی خطرے کے جواب میں پاکستانی فوج نے کئی مرتبہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ان حملوں کو دہشت گردی کے خلاف اپنے عوام کے دفاع کا جائز حق قرار دیا ہے۔

ان الزامات پر طالبان حکومت کا ردعمل ہمیشہ غیر واضح اور متضاد رہا ہے۔ ایک طرف طالبان کے وزیر دفاع جیسے حکام یہ کہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی اور وہ اس حوالے سے یقین دہانی کرانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ دوسری طرف زمینی حقائق اور معتبر رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی نہ صرف افغانستان میں سرگرم ہے بلکہ وہاں اسے خاصی آزادی بھی حاصل ہے۔

طالبان کے وزیرِ دفاع کا یہ دھمکی آمیز بیان کہ اگر کابل غیر محفوظ ہوا تو اسلام آباد بھی غیر محفوظ ہوگا، اس بات کی علامت ہے کہ طالبان کا رویہ تصادم پر مبنی ہے اور وہ ایک تسلیم شدہ حکومت کی ذمہ داریوں اور فرائض کو درست طور پر سمجھنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

یہ دوہرا رویہ طالبان کو ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا کر دیتا ہے جو نہ مناسب ہے اور نہ ہی آسانی سے اس کا دفاع کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف وہ عالمی سطح پر سفارتی تعلقات اور اپنی حکومت کی باقاعدہ پہچان چاہتے ہیں، لیکن دوسری طرف عملی طور پر ایسے گروہوں کو سرگرمی کی اجازت دیتے ہیں جو ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کا اپنے دفاع کا حق نہ صرف بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے طالبان کی بے عملی اور سخت رویوں کے مقابلے میں ایک منطقی ردعمل بھی کہا جاسکتا ہے۔ جب تک طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد تنظیم کے بجائے ایک بھائی یا مہمان سمجھتی رہے گی، سرحدی کشیدگی اور پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری رہنے کا امکان رہے گا۔

افغانستان میں بھارت کی موجودگی آگ سے کھیلنے کے مترادف

طالبان کی خارجہ پالیسی کا ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے دیرینہ تنازع کو نظر انداز کرتے ہوئے افغانستان میں نئی دہلی کے اثر و رسوخ کو بڑھنے کا موقع دے رہے ہیں، جو کئی حلقوں میں تشویش کا باعث ہے۔ بھارت کے صہیونی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات اور پاکستان کے ساتھ اس کی دشمنی کے پیش نظر، یہ توقع کی جاتی ہے کہ افغانستان کو بھارت کو اپنی سرزمین پر آزادانہ سرگرمی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طور پر ہمیشہ افغانستان میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں بھارت کے تعمیراتی اور معاشی منصوبے، جن میں تقریباً 300 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا سلما ڈیم بھی شامل ہے، دراصل اس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے وہ وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنا اور پاکستان کے معاشی دباؤ کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان کے نقطۂ نظر سے افغانستان میں بھارت کی کسی بھی شکل میں موجودگی ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کو مشرق اور مغرب دونوں طرف سے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ طالبان دراصل کوئی واضح منفی توازن کی پالیسی نہیں اپنا رہے، بلکہ ایک حد تک عملی اور بعض اوقات موقع پرستانہ انداز میں بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کھل کر بھارت کو خطے کا ایک اہم ملک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسلامی امارت نئی دہلی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے۔ اس کے برعکس طالبان اور پاکستان کے تعلقات، جو کبھی ان کے سب سے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے، اب اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طالبان ایک ایسی حکمت عملی پر چل رہے ہیں جو خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے۔ وہ ہر اس فریق کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو تیار نظر آتے ہیں جو وقتی طور پر ان کے مفادات کو پورا کر سکے، چاہے اس کے طویل مدتی نتائج خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہوں۔ افغانستان میں بھارت کی موجودگی بذاتِ خود مسئلہ نہیں، لیکن جب اسے پاکستان کی سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنے اور بھارت کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال زیادہ حساس اور خطرناک بن جاتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اور اسرائیل کی قربت اور ان کی علاقائی رقابتیں افغانستان کو ایسی طاقتوں کے درمیان میدانِ مقابلہ بناسکتی ہیں جو افغانستان کے عوام کے طویل مدتی مفادات سے زیادہ اپنے مفادات کو اہمیت دیتی ہیں۔

افغانستان میں کچھ مذہبی گروہ بھارت کے بارے میں بہت سخت اور اشتعال انگیز باتیں کرتے ہیں، جس سے حالات مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ یہ گروہ بھارت کے کردار کو یہودیوں سے تشبیہ دیتے ہیں اور اسے خطے کا اسرائیل کہتے ہیں۔ ایسی زبان اگرچہ بعض لوگوں کو جذباتی طور پر مطمئن کر سکتی ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ طالبان ایک مشکل صورتِ حال میں پھنس جاتے ہیں۔ اگر وہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کریں تو انہی حلقوں کی نظر میں یہ فورا غداری سمجھا جاسکتا ہے۔

علاقائی منظرنامہ اور ایران کا مؤقف

افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک، خاص طور پر ایران میں سنجیدہ خدشات پیدا کردیے ہیں۔ ایران کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے اور وہ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی بھی کررہا ہے، اس لیے افغانستان میں پیدا ہونے والی بے ثباتی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافے کے بعد ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ خطے کے مسائل اور چیلنجز صرف تعمیری مکالمے اور تمام ممالک کے فعال تعاون سے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔

تاہم طالبان کی موجودہ پالیسیاں اس نقطۂ نظر سے واضح طور پر مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ طالبان کے وزیرِ دفاع نے خارجہ پالیسی کے جن اصولوں کا ذکر کیا ہے یعنی دونوں ممالک کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا اور ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اس وقت تک معنی نہیں رکھتے جب تک انہیں عملی طور پر نافذ نہ کیا جائے۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے بے عملی، پاکستان کے خلاف سخت بیانات اور علاقائی و عالمی قوتوں کے ساتھ بے ضابطہ تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان کے پاس یا تو ان اصولوں پر عمل کرنے کی صلاحیت نہیں یا پھر سنجیدہ ارادہ نہیں رکھتے۔

ایران کے نقطۂ نظر سے ایک ایسا افغانستان جو عدم استحکام کا شکار ہو، دہشت گرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ بن جائے اور بیرونی طاقتوں کی رقابت کا میدان بن جائے، براہ راست ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

طالبان کی موجودہ پالیسیاں، جو ہمسایہ ممالک پر سیکیورٹی کے نام پر دباؤ ڈالنے اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ بغیر واضح اصولوں کے سودے بازی کرنے پر مبنی ہیں، ایران سمیت افغانستان کے کسی بھی پڑوسی ملک کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ موجودہ حساس حالات کے پیش نظر ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ پالیسیاں مستقبل میں ایران کے لیے بھی مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔

حاصل سخن 

افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کی اصل وجہ طالبان حکومت کی غلط اور غیر واضح پالیسیاں ہیں۔ ایک مسلح گروہ سے حکومت بننے کے باوجود طالبان اب تک اپنے ماضی کے انداز سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے اور نہ ہی انہوں نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایک ذمہ دار اور متوازن رویہ اختیار کیا ہے۔ البتہ طالبان کی پالیسیوں پر تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے ہر اقدام کی حمایت کی جا رہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ افغانستان اور پورے خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب وہاں کی حکومت یہ بات سمجھے کہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینا، پرانے سرحدی تنازعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا اور اصولوں سے بالاتر ہوکر بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بنانا ایسی پالیسیاں ہیں جن سے آخرکار سب کو نقصان ہوگا۔

بین الاقوامی برادری اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ایران کو ایک واضح اور مشترکہ پیغام دینا چاہیے کہ مثبت تعلقات اور عالمی سطح پر قبولیت اسی وقت ممکن ہے جب طالبان اپنے رویے میں تبدیلی لائیں، بین الاقوامی قوانین اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کا احترام کریں اور دہشت گردی و عدم استحکام کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف سنجیدہ اقدامات کریں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، طالبان کے زیر انتظام افغانستان اندرون ملک اور خطے دونوں میں عدم استحکام کا سبب بن کر رہ سکتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *