مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر جارحیت کے بعد دشمن کے حساس اہداف پر ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
جمعہ کو یومِ عالمی قدس کے موقع پر عوام کی بھرپور شرکت کے بعد آپریشن وعدہ صادق 4 کی پینتالیسویں لہر “یا صاحب الزمان” کے نعرے کے ساتھ شروع کی گئی۔ یہ کارروائی شہید حاجی زادہ اور شہید محمود باقری کی یاد میں امریکی۔صہیونی اہداف کے خلاف انجام دی گئی۔
اس آپریشن میں بڑی تعداد میں ٹھیک نشانہ لگانے والے ٹھوس ایندھن والے خیبر شکن میزائل استعمال کیے گئے، جبکہ سپاہ پاسداران کی بحریہ، فوج اور ڈرون یونٹس اور حزب اللہ لبنان نے بھی اس کارروائی میں حصہ لیا۔
سپاہ پاسداران کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس حوالے سے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی مسلح افواج کے عزم کی عکاسی کرتی ہے جو اسلامی انقلاب کے اہداف کے دفاع اور دشمن کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
امریکی فوجیوں کو خطے میں کسی کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر
دوسری جانب خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے بتایا کہ آج صبح سے ایرانی فوج نے مقبوضہ علاقوں میں متعدد اہداف کو بڑی تعداد میں خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
ان کے مطابق آپریشن وعدہ صادق4 میں “یا شدیدالعقاب” اور “یا صادق الوعد” کے نعروں کے ساتھ امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے، تل ابیب، شمالی مقبوضہ علاقوں اور ایلات سمیت کئی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں خرمشہر، قدر، عماد، فتاح اور خیبر شکن جیسے میزائل اور خودکش ڈرون استعمال کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ منامہ اور اربیل میں موجود امریکی اڈوں سمیت “موفق السلطی” نامی فوجی اڈہ بھی شدید میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آیا۔ اسی دوران مزاحمتی تنظیموں نے ایک ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کو بھی نشانہ بنایا جس کے عملے کے ارکان ہلاک ہو گئے۔
ترجمان نے مزید دعوی کیا کہ گزشتہ رات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کو بھی سپاہ پاسداران کی بحریہ نے نشانہ بنایا جس کے بعد وہ غیر فعال ہو کر اپنے ابتدائی اڈے کی طرف واپس روانہ ہوگیا۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی جہاں بھی ہوں، خصوصاً رہائشی مقامات، صنعتی علاقوں اور زیر زمین پناہ گاہوں میں، وہ ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
