
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی_صہیونی جارحیت کو آغاز ہوئے دو ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی فضائی صنعت کو عصر حاضر کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔
فضائیہ تجزیاتی کمپنی Cirium کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس جارحیت کے آغاز سے اب تک مشرق وسطیٰ کے لیے طے شدہ تقریباً 98,000 پروازوں میں سے 52,000 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
اندازوں کے مطابق اس وسیع بحران سے دنیا بھر میں تقریباً 60 لاکھ مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
ایران، عراق، مقبوضہ فلسطین، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت جیسے ممالک کے فضائی حدود کی بندش یا پابندیوں کی وجہ سے بہت سی بین الاقوامی ایئرلائنز نے ان راستوں پر اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں یا انہیں طویل راستوں پر منتقل کر دیا ہے۔
فضائی صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ان راستوں کی تبدیلی سے پرواز کے وقت اور ایندھن کے اخراجات میں اضافے کے علاوہ، بین الاقوامی پروازوں کے نیٹ ورک اور ایئرلائنز کے آپریشنل منصوبوں میں بھی وسیع خلل پڑا ہے۔
