
مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق جنگ کا چودھواں دن ایسے وقت گزر رہا ہے جب عسکری اور سیاسی صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دشمن کے اہم اہداف پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں جبکہ خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کے خلاف دباؤ بھی بڑھا ہے۔ اس کے ساتھ ایران نے اپنی فضائی دفاعی اور بحری تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا اور اس طرح اپنی “فعال ڈیٹرنس” کی پالیسی جاری رکھنے کا واضح پیغام دیا۔
مختلف رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت پر مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور مغربی سکیورٹی حلقوں میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جھڑپوں کے آغاز کے دو ہفتے بعد جنگ ایک زیادہ پیچیدہ اور کثیر الجہتی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
مغربی یروشلم، تل ابیب اور امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے، سپاہ پاسداران انقلاب
سپاہ پاسداران انقلاب نے آپریشن “وعدہ صادق 4” کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کارروائی میں مقبوضہ فلسطین کے علاقوں مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کو ایرانی میزائلوں کے شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
بیاج کے مطابق امریکی اڈہ “موفق السلطی” اور منامہ و اربیل میں موجود دیگر امریکی اڈے سپاہ پاسداران کے شدید ترین میزائلوں اور ڈرون حملوں کا ہدف بنے۔
اسی دوران مقاومتی محاذ کے فضائی دفاعی نظام نے ایک ایندھن فراہم کرنے والے طیارے “بوئنگ KC-130 اسٹریٹو ٹینکر” کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ایک حملہ آور جنگی طیارے کو ایندھن فراہم کر رہا تھا، جس کے نتیجے میں عملے کے 6 افراد ہلاک ہوگئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اللہ کی مدد سے قدس شریف کی آزادی اور غاصب اسرائیل کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا اور خدا پر توکل کے ساتھ امتِ مسلمہ کے لیے فتح کے دروازے کھولے جائیں گے۔
سپاہ پاسداران نے امریکی فوجیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوری طور پر خطہ چھوڑ دیں، بصورت دیگر انہیں خطے کے کسی بھی مقام پر، خصوصاً ہوٹلوں، سرنگوں، صنعتی علاقوں اور زیرِ زمین پناہ گاہوں میں ملبے تلے دفن کر دیا جائے گا۔
