شیوسینا لیڈر نے اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ حکومتی دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں نئی نئی خرافات سامنے آتی رہتی ہیں۔ سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ امریکی پریس سکریٹری کے بیان میں ہندوستان کے بارے میں کیا گیا تبصرہ ملک اور وزیر اعظم کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی افسر یہ کہتا ہے کہ ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے یا نہ خریدنے کے فیصلے بیرونی دباؤ میں لینے پڑتے ہیں تو یہ ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچانے والا بیان ہے۔
’نالے سے گیس بن سکتی ہے تو پلانٹ کا افتتاح کریں وزیر اعظم؟ ایل پی جی بحران پر سنجے راؤت کا طنز
