جے رام رمیش نے اپنی تازہ پوسٹ میں کہا کہ لوک سبھا میں اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک پر ہونے والی بحث کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر نے یہ بات فخر کے ساتھ کہی کہ اس بار بحث کے لیے دس گھنٹے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ دسمبر 1954 میں اسی نوعیت کی تحریک پر صرف ڈھائی گھنٹے کا وقت مقرر تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس موازنہ کے دوران کئی اہم پہلوؤں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 18 دسمبر 1954 کو جب لوک سبھا میں اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک پر بحث ہوئی تھی تو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نہ صرف ایوان میں موجود رہے بلکہ انہوں نے خود بحث میں حصہ بھی لیا۔ جے رام رمیش کے مطابق نہرو نے اس موقع پر ایوان کی صدارت کرنے والے نائب اسپیکر سے درخواست کی تھی کہ اس معاملے میں اپوزیشن کو حکومت کے مقابلے میں زیادہ وقت دیا جائے۔
