شہید رہبر کا ہر حال میں بدلہ لیں گے، جہاں سے حملہ ہوجائے جواب دیا جائے گا، لاریجانی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اگر خطے میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملہ کیا گیا تو تہران بھرپور جواب دے گا، کیونکہ اپنی حاکمیت کا دفاع ایران کی مستقل اور واضح پالیسی ہے۔

ایرانی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ ایران کا آذربائجان کے ساتھ کوئی تنازع نہیں، تاہم اگر اس ملک کی سرزمین سے ایران کے خلاف کسی قسم کی سازش یا فضائی کارروائی کی گئی تو ایران اس کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، بصورت دیگر ایران خود اس کا راستہ روکے گا۔ لاریجانی کے مطابق خطے کے دو ممالک نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تاہم تہران کو اس بارے میں شکوک ہیں۔

لاریجانی نے کہا کہ جب دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر خالی مقامات، اسکولوں، اسپتالوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کردیتا ہے۔ ایران کے خلاف دشمن کی منصوبہ بندی میں حکومت کا خاتمہ، عوام کو سڑکوں پر لانا اور ملک کو تقسیم کرنا شامل تھا، لیکن یہ تمام منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ایران اسے بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا اور اسے ایسا سبق سکھائے گا کہ آئندہ ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایران کے میزائل حملے اسرائیل کے لیے نہایت دردناک ثابت ہورہے ہیں اسی لیے وہاں حملوں کی تصاویر شائع ہونے نہیں دی جاتیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ شہید امام خامنہ ای پر حملے کے نتائج امریکا اور اسرائیل کے لیے بہت مہنگے ثابت ہوں گے اور ایران اس کا بدلہ لیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

لاریجانی نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا، تاہم موجودہ جنگ کی فطرت ہی ایسی ہے کہ اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ ایران جنگ کو طول دینے کا خواہاں نہیں، لیکن جارحیت کرنے والوں کو سزا دینا ضروری ہے۔

انہوں نے یورپی ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اس جنگ میں عملی طور پر شرکت کی تو ایران کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *