واقعے کے بعد اہل خانہ اور طلباء نے پولیس پر پردہ پوشی کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو حقیقت جلد سامنے آ سکتی تھی۔ احتجاج اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سینئر حکام نے پورے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا۔ واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پٹنہ پولیس نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے جواب ہر پہلو کی تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا اور تحقیقات کو غیر جانبداری اور تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ وہیں معطلی کی کارروائی کو جوابدہی طے کرنے کی سمت میں اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پٹنہ کے گرلس ہاسٹل میں نیٹ طالبہ کی عصمت دری اور موت معاملے میں 2 سینئر پولیس افسر معطل
