انہوں نے قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلت مظالم کے معاملات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دو ہزار بائیس کے بعد حکومت دلت مظالم کا تازہ ڈیٹا عوام کے سامنے لانے سے گریز کر رہی ہے، جو شفافیت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔
راجندر گوتم نے مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا سارا دھیان انتخابات، اقتدار اور سیاسی فائدے پر مرکوز ہے، جبکہ کمزور طبقات کے تحفظ کے آئینی فرائض کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی جانب سے مظاہروں پر پابندیاں عائد کرنا آئین کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذات اور مذہب سے بالاتر ہو کر قانون کو یکساں طور پر نافذ کیا جائے اور دلت مظالم کے معاملات میں فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
