
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں موجودہ عالمی پیش رفت، امریکا کی جارحانہ کارروائیوں اور پوری دنیا کے خلاف امریکا کے غیر قانونی اور غیر منصفانہ رویے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے وینزویلا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کی زبان میں امن کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت وہ جنگل کے قانون کی بات کر رہے ہوتے ہیں، یعنی جس کے پاس زیادہ طاقت ہو وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ یہ ایک نیا رجحان ہے جس نے تقریباً تمام ممالک اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کو اس مسئلے پر توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے اور اسے عالمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آج ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں وینزویلا کی تازہ صورتحال اور وہاں پیش آنے والے واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان کے مطابق وینزویلا میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سفارتخانہ بدستور فعال ہے اور ایرانی سفیر سمیت تمام عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ صورتحال کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے اور وینزویلا میں مقیم ایرانی شہریوں کے حالات سے مسلسل آگاہی حاصل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی شہریوں کی صورتحال مکمل طور پر تسلی بخش ہے، کسی قسم کے مسئلے کی اطلاع نہیں ملی، اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کر لیے گئے ہیں۔
