
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس نے ایران میں چھوٹے نیوکلیئر پلانٹس بنانے پر غور کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ دور دراز علاقوں اور صنعتی مراکز میں قابل اعتماد اور ماحول دوست بجلی فراہم کی جاسکے۔
تفصیلات کے مطابق، روسی نمائندے الیگزینڈر ایفیموف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چھوٹے نیوکلیئر پلانٹس میں روسی شراکت داری کی ترقی کی مانگ دور دراز علاقوں اور صنعتی مراکز میں ہے جہاں بڑے پاور پلانٹس کی ضرورت نہیں لیکن مستحکم بجلی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیا اور مقبول حل ہے، خاص طور پر ان علاقوں کے لیے جہاں بڑے پلانٹس نہیں بلکہ قابل اعتماد اور ماحول دوست بجلی کا ذریعہ چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران میں پہلے ہی بوشہر میں ایک نیوکلیئر پلانٹ فعال ہے، جس کے اگلے مرحلے کی تعمیر روس کی مدد سے جاری ہے۔ پہلے یونٹ کو ستمبر 2011 میں ایران کے قومی بجلی کے نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں مزید دو یونٹس کی تعمیر جاری ہے۔
ایران اور روس نے ستمبر 2025 میں ہرمزگان صوبے میں 25 ارب ڈالر مالیت کے چار نئے پاور یونٹس بنانے کا معاہدہ بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے ایران میں چھوٹے نیوکلیئر پلانٹس کی تعمیر میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
