
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران گذشتہ ادوار کے مقابلے میں سڑکوں پر عوام کی حاضری نسبتا کم رہی۔ اگرچہ احتجاج اور عدم اطمینان کا اظہار ایرانی عوام کا فطری حق ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ یہاں بعض دہشت گرد اپوزیشن نیٹ ورکس سرگرم ہیں جنہیں امریکہ اور صہیونی حکومت کی پشت پناہی حاصل بتائی جاتی ہے۔ ملک کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہ، منافقین کے ہمدرد عناصر اور شاہ پرست حلقے، جو ماضی میں مسلح نیٹ ورکس قائم کرنے اور بدامنی پھیلانے کی کھلی اپیلیں کرتے رہے ہیں، حالیہ پرامن احتجاجات کو اپنے مخصوص اہداف کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
تاہم خوش آئند پہلو یہ رہا کہ ایرانی عوام کی اکثریت نے شعور اور سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ ایسے عناصر سے فاصلہ رکھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرز عمل سماجی بلوغت اور بیرونی سازشوں کے بارے میں عوامی آگاہی کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب احتجاجات کے سامنے پولیس کا پیشہ ورانہ طرز عمل اور تحمل بھی نمایاں رہا۔ سکیورٹی اداروں نے غیر ضروری تصادم سے گریز کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول میں رکھا اور کشیدگی بڑھنے سے روکے رکھا۔
اس کے باوجود بعض علاقوں میں مسلح شرپسند عناصر کی جانب سے حساس مقامات، خصوصاً پولیس تھانوں کے قریب پہنچنے کی کوششیں کی گئیں، جو کسی بھی وقت سخت سکیورٹی ردعمل کا باعث بن سکتی تھیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حال ہی میں گرفتار ہونے والے بعض سرکردہ عناصر مکمل طور پر تربیت یافتہ تھے اور شناخت سے بچنے کے لیے موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کر رہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان عناصر کو عوام کو اکسانے اور پرامن احتجاجات کو تشدد کی طرف موڑنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی، جبکہ ان گروہوں میں خواتین کی موجودگی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ منصوبہ بندی اس انداز میں کی گئی تھی کہ اجتماعات کو رات گئے تک جاری رکھا جائے، جو عام شہری احتجاج کے دائرے سے باہر سمجھا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں گرفتار کیے گئے متعدد شرپسند نیٹ ورکس منظم اور تربیت یافتہ تھے اور انہیں اشتعال انگیز کارروائیوں کے ذریعے پولیس کو سخت ردعمل پر مجبور کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی تاکہ سماجی فضا کو کشیدہ کیا جاسکے۔
مجموعی طور پر مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس کا پیشہ ورانہ طرز عمل اور عوام کی ہوشیاری حالیہ مرحلے میں پرتشدد منصوبوں کو ناکام بنانے اور قومی سلامتی کے تحفظ میں فیصلہ کن عوامل ثابت ہوئے ہیں۔
دوسری جانب تاجر، کاروباری شخصیات، معاشی کارکنان اور بازار سے وابستہ افراد کی جانب سے احتجاج کے بعد ایران کی حکومت اور اس کے اعلیٰ حکام نے عوامی احتجاجی حق کو تسلیم کرتے ہوئے بعض اقتصادی اصلاحات کے نفاذ کے ذریعے صورتحال بہتر بنانے اور درست سمت میں پیش رفت کا وعدہ کیا۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ عوام کی معاشی حالت میری روزمرہ ترجیح ہے۔ مالی اور بینکاری نظام کی اصلاح اور عوام کی قوت خرید کے تحفظ کے لیے بنیادی اقدامات ہمارے ایجنڈے میں شامل ہیں۔
انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مظاہرین کے نمائندوں سے بات چیت کے ذریعے ان کے جائز مطالبات سنیں تاکہ حکومت پوری ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر سکے۔
