
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ مار اے لاگو میں ہونے والی اس ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور صیہونی ریاست کے مفادات کے تحفظ پر طویل مشاورت کی گئی۔ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایران کے حوالے سے اپنے روایتی جارحانہ انداز کو برقرار رکھتے ہوئے تہران کو براہِ راست فوجی کارروائی کی دھمکی دی اور دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
غزہ کے حوالے سے ٹرمپ نے صیہونی ایجنڈے کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غزہ منصوبہ جلد دوسرے مرحلے میں داخل ہوگا جس کے بعد تعمیرِ نو کا کام شروع کیا جا سکے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط رکھ کر ٹرمپ دراصل جنگ کو طول دینے کے صیہونی منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے جوہری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معاہدہ کر لینا چاہیے، کیونکہ معاہدہ نہ کرنا نادانی ہوگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دعوے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکی میڈیا اور خود حکام اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ واشنگٹن ایک طرف ایران سے مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہا تھا اور دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جارحیت کی تیاری کر رہا تھا۔ ٹرمپ نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا حکم دیا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نتن یاہو کی یہ ملاقات خطے میں مزید کشیدگی اور ایران کے خلاف نئے محاذ کھولنے کی کوشش ہے، جس کا مقصد عالمی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر صیہونی ریاست کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
