مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کی سابق حکومت میں صوبہ تخار کے پولیس چیف اکرم الدین سریع کو تہران میں ایک مسلح حملے میں قتل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے مہر نیوز کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ تہران کی ولی عصر اسٹریٹ پر پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق اکرم الدین سریع اپنے کام کی جگہ سے نکل رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے انہیں نشانہ بنایا۔
حملہ آوروں نے ان کے سر میں گولی ماری، جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
مہر نیوز کی جانب سے تہران پولیس ڈپارٹمنٹ سے کیے گئے رابطے کے نتیجے میں اس قتل کی باقاعدہ تصدیق ہو گئی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ خبر مکمل طور پر درست ہے۔
واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس اس قتل کے پیچھے ملوث عناصر اور مجرموں کی نشاندہی کے لیے تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
اب تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور ملزمان مفرور ہیں۔
