جب تک غاصبانہ قبضہ ہے، ہمارا اسلحہ بھی رہے گا، حماس 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزاحمت کا اسلحہ حوالے کرنے سے متعلق کسی بھی قسم کی بحث کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ مزاحمت کا اسلحہ ایک قانونی اسلحہ ہے اور جب تک غاصبانہ قبضہ جاری ہے، یہ اسلحہ بھی موجود رہے گا۔

انہوں نے خطے کی صورتحال میں امریکہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے پر اپنی بالادستی کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے صہیونی ریاست کو مرکزی ستون کے طور پر دیکھتا ہے۔

حماس کے عہدیدار نے مزید کہا کہ بنیامین نتن یاہو بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی منصوبے کی اصل بنیاد پورے خطے کو اس طرح غیر مسلح کرنا ہے کہ اسرائیل کے سوا کسی کے پاس اسلحہ باقی نہ رہے۔ یہ معاملہ براہِ راست اس مقصد کے لیے ہے جسے گریٹر اسرائیل کہا جاتا ہے۔

حمدان نے اس طرزِ عمل کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا مطلب اسلامی امت کی زمینوں کے ایک بڑے حصے کو نگلنے کے لیے دروازے کھولنا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صہیونی ریاست خطے میں اسلحے کی واحد مالک بن جائے گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *