مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مزاحمتی فورسز نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی آلہ کاروں کے خلاف متعدد ہم آہنگ کارروائیاں انجام دیں، جنہیں اس بار اسرائیلی فوج کی فضائی حمایت حاصل نہیں رہی۔
ذرائع کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کے بعد وہ آلہ کار جو پہلے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کرتے تھے، خوف اور ہراس کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے سابق ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ یہ افراد کبھی بھی مقبوضہ علاقوں میں داخل نہیں ہو سکیں گے اور انہیں اپنے انجام کا سامنا تنہا کرنا ہوگا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ یاسر ابو شباب گروہ اور شاباک کی غزہ میں قائم کردہ نیم فوجی گروہ کا انجام لبنان کی جنوبی فوج سے بھی بدتر ہوگا۔ یہ گروہ اسرائیلی فوج کی مدد سے انسانی امداد کے مراکز پر حملے کرتا اور انہیں قتل عام کے میدان میں تبدیل کرتا تھا، ساتھ ہی دیگر علاقوں میں افراتفری پھیلانے کے لیے بھی سرگرم رہتا تھا۔
اس کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے لیے ان مزدوروں کی افادیت اب ختم ہو چکی ہے اور مزاحمت کی موجودہ طاقت نے علاقے میں اپنی حکمرانی کا پیغام دے دیا ہے۔
