’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، نمایاں نیوز چینلز کی سینئر رپورٹرز سمیت ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کی نمائندہ کو بھی پریس کانفرنس سے روک دیا گیا۔ یہ پریس کانفرنس اس وقت منعقد کی گئی جب طالبان وزیر نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔
صحافیوں نے اس اقدام کو طالبان کے عورت دشمن رویے کی عکاسی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق طالبان حکومت نے افغانستان میں پہلے ہی خواتین کو ثانوی تعلیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بیشتر دفاتر سے خارج کر رکھا ہے، اور اب اسی نظریے کی جھلک ہندوستان میں بھی دکھائی دی ہے۔
