
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کے حامی بیڑے سے وابستہ کارکنوں نے صہیونی بندرگاہ اشدود میں انسانی امدادی سامان اتارنے کی اسرائیل کی درخواست کی سخت مخالفت کی۔
ان کارکنوں نے کہا کہ ایسی درخواست فلسطینی عوام کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس بیڑے کے اصل مقصد یعنی غزہ کی سمندری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس سے قبل، اسرائیل کے وزارت خارجہ کا دعویٰ تھا کہ اشدود میں امدادی سامان اتارنے سے یہ امداد بہت جلد غزہ پہنچ جائے گی۔
تاہم، فلسطین کے حامی کارکنوں نے کہا کہ اس اقدام کا مطلب اسرائیل کی پالیسیوں کی توثیق اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی بحریہ کو ان جہازوں پر حملے کا حق نہیں جو فلسطین کے علاقائی پانیوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں عمر مختار جہاز لیبیا کے دارالحکومت سے روانہ ہوا ہے تاکہ عالمی ’’صمود بیڑہ‘‘ میں شامل ہو کر غزہ کے محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرے۔
