مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک-ہادی رضائی: ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ (23 جون تا 4جولائی 2025) مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب غاصب اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر حملہ کیا اور امریکہ نے ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا۔ تاہم، ایرانی مسلح افواج کی بھرپور جوابی کارروائی اور عوام کے غیر معمولی اتحاد نے نہ صرف اسرائیلی طاقت کے تاثر کو چکنا چور کر دیا بلکہ ایران کو خطے اور دنیا کی سیاست میں ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر نمایاں کر دیا۔
12 روزہ جنگ اور ایران کی عسکری کامیابیاں
یہ جنگ اُس وقت چھڑ گئی جب اسرائیلی حملے میں ایرانی فوجی کمانڈرز، ایٹمی سائنسدان اور عام شہری شہید ہوئے۔ ابتدائی نقصان کے باوجود ایران نے نہایت تیزی کے ساتھ اپنی عسکری صلاحیتیں منظم کیں اور دشمن کو بھرپور جواب دیا۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اسرائیلی دفاعی نظام کو بیکار کر دیا، وہی نظام جسے دنیا بھر میں ناقابلِ شکست قرار دیا جاتا تھا۔ اس جنگ میں امریکہ کی کھلی حمایت کے باوجود جارح اسرائیل کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ ایران نے یہ ثابت کیا کہ اس کی افواج کسی بھی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ لڑائی ایران کی عسکری برتری اور دفاعی تیاری کا واضح ثبوت بن گئی۔

آپریشن “وعدہ صادق 3” اسرائیلی تنصیبات پر کاری ضرب
ایران نے “وعدہ صادق 3” کے نام سے ایک بڑے آپریشن کے دوران 22 مرحلوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے جن میں غاصب اسرائیل کے حساس فوجی، اسٹریٹیجک اور تحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں سے دشمن کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا۔ ماہرین کے مطابق یہ کارروائی ایران کی صرف جزوی عسکری طاقت کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ دفاعی قوت کا بڑا حصہ ابھی تک دنیا کے سامنے نہیں آیا۔
ایران کی مسلح افواج غیر معمولی دفاعی تیاری میں ہیں
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے 12 روزہ جنگ کے بعد اپنے بیانات میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ ایرانی افواج غیر معمولی طور پر دفاع کے لیے تیار ہیں۔ شہداء کی اربعین کی تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس مذاکرات کی بھی طاقت ہے اور جنگ کی بھی۔ ایرانی قوم جنگ کی خواہاں نہیں، لیکن اگر دشمن نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو ہمارا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور بالکل مختلف ہوگا۔

جنرل موسوی نے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور مقامی فوجی صلاحیتوں نے دشمن کی جنگی مشین کو روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنا ارادہ امریکہ اور اسرائیل پر مسلط کر دیا ہے۔ ہم دشمن کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر کوئی اسٹریٹیجک غلطی کی گئی تو جارح قوتوں کو تاریخ کے اندھیروں میں دھکیل دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کے دوران پولیس فورس نے داخلی سلامتی کو یقینی بنایا اور مسلح افواج کے ساتھ مربوط انداز میں قومی سلامتی کو مضبوط کیا۔
فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا اتحاد فتح کی کنجی
ایرانی فوج کے سربراہ جنرل حاتمی نے ایک ملاقات میں کہا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب کی یکجہتی اور ہم آہنگی ایک منفرد فارمولا ثابت ہوئی جس نے دشمن کو حیران کر دیا۔ ان کے مطابق یہ اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
جنرل حاتمی نے مزید کہا کہ اس جنگ کے بعد فوجی دفاعی نظام کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ 12 روزہ جنگ نے ہماری طاقت اور کمزوریوں کو واضح کر دیا اور اب ہمارے دفاعی نظام اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کو ابتدا ہی میں ختم کیا جا سکے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب کی جنگی تیاری عروج پر
سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے کہا کہ سپاہ پاسداران کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12روزہ جنگ میں سپاہ پاسداران نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی خطرے کا مختصر وقت میں بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاسداران کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ قدس فورس نے خطے میں مزاحمتی محاذ کو مضبوط کیا ہے اور آج یہ محاذ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی کوئی بھی مہم جوئی سخت ترین جواب سے دوچار ہوگی۔
پاسداران کے ایک سرکاری بیان میں اس جنگ کو “فوجی طاقت اور قومی اتحاد کا مظاہرہ” قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایران ہر حال میں اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
ایران کا فضائی دفاع اعلیٰ ترین سطح پر
قرارگاہ ثاراللہ کے نائب کمانڈر جنرل حسین نجات نے شہداء کی یادگار تقریب سے خطاب میں کہا کہ جنگ کے آغاز میں اگرچہ ایران کو غافل کیا گیا، لیکن ردعمل فوری اور منظم تھا۔ آج ایران کے دفاعی نظام اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر توڑ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق 12 روزہ جنگ کے تجربے نے دفاعی ڈھانچے کو تیز رفتاری سے بہتر بنانے میں مدد دی ہے اور تمام خامیاں دور کی جا رہی ہیں۔
ایران کی ملٹی لیئر تیاری دشمن کے لیے چیلنج
عسکری ماہرین کے مطابق 12روزہ جنگ نے ایران کی دفاعی صلاحیت کو نئی سطح پر پہنچایا ہے۔ قومی اسمبلی کی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ یہ جنگ صرف ایران کی طاقت کا ایک پہلو ظاہر کرتی ہے، اصل قوت اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور کسی بھی جارحیت کو سخت جواب دیا جائے گا۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے بھی کہا کہ ایران کی کامیابی قومی اتحاد، دانشمندانہ سفارتکاری اور عسکری برتری کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق ایران نے میزائل، ریڈار، الیکٹرانک وار فیئر اور فضائی دفاع میں نمایاں پیشرفت دکھائی ہے۔
12 روزہ جنگ کا سب سے بڑا پہلو قومی اتحاد
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عدلیہ کے حکام سے ملاقات میں کہا کہ عوام نے عزم، حوصلے اور خوداعتمادی کے ساتھ دشمن کی تمام منصوبہ بندی ناکام بنائی۔ رکن اسمبلی فتح اللہ توسلی نے بھی کہا کہ ایران کی قوم اس آزمائش سے سربلند ہو کر نکلی ہے۔
آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ بارہ روزہ جنگ میں عوام کا عظیم کارنامہ، قومی عزم و اعتماد جیسا تھا کیونکہ امریکا جیسی طاقت اور اس کے پالتو کتے صیہونی حکومت سے مقابلے کی تیاری اور جذبہ ہی بہت گرانقدر ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دوستوں کو بھی اور دشمنوں کو بھی جان لینا چاہیے کہ ایرانی قوم کسی بھی میدان میں کمزور فریق کی طرح سامنے نہیں آئے گی، کہا کہ ہمارے پاس منطق اور عسکری طاقت جیسے تمام ضروری وسائل ہیں اس لیے چاہے وہ سفارتکاری کا میدان ہو یا فوجی میدان ہو، ہم جب بھی اس میدان میں آئیں گے، اللہ کی توفیق سے مضبوطی کے ساتھ آئیں گے۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ اگرچہ ہم صیہونی حکومت کو کینسر اور امریکا کو اس کی پشت پناہی کی وجہ سے مجرم مانتے ہیں لیکن ہم نے جنگ کا آغاز نہیں کیا تاہم جب دشمن نے حملہ کیا، ہمارا جواب منہ توڑ اور بہت ٹھوس تھا۔
آيت اللہ خامنہ ای نے صیہونی حکومت کو ایران کے ٹھوس اور دنداں شکن جواب کی واضح دلیل، اس کی جانب سے امریکا سے مدد مانگنا بتایا اور کہا کہ اگر صیہونی حکومت جھک نہ جاتی اور زمیں بوس نہ ہوتی اور اپنا دفاع کر پاتی تو اس طرح امریکا سے مدد نہ مانگتی لیکن وہ سمجھ گئي کہ اسلامی جمہوریہ کا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔
انھوں نے امریکا کے حملے پر ایران کے جوابی حملے کو بھی بہت حساس ضرب بتایا اور کہا کہ ایران نے جس جگہ حملہ کیا وہ خطے میں امریکا کا انتہائی حساس مرکز تھا اور جب بھی خبری سینسر ہٹے گا تو پتہ چل جائے گا کہ ایران نے کتنی گہری چوٹ پہنچائی ہے۔ البتہ امریکا اور دوسروں کو اس سے بھی بڑی چوٹ پہنچائی جا سکتی ہے۔
سخت جواب کے لیے تیار
ایرانی کمانڈروں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح افواج نے نہ صرف اس جنگ میں تجربہ حاصل کیا بلکہ اب ہر طرح کے خطرے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ جنرل موسوی نے قطری حکام سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی حقانیت پوری دنیا پر ثابت ہو چکی ہے اور ملک ہر قسم کے دباؤ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔
مسلح افواج کے ترجمان نے بھی خبردار کیا کہ قابض اسرائیل اس جنگ سے سبق لے چکا ہے اور اگر دوبارہ جارحیت ہوئی تو اس بار ردعمل کہیں زیادہ سخت اور شدید ہوگا۔
نتیجہ
12 روزہ جنگ، اگرچہ جانی نقصان اور شہادتوں کے ساتھ گزری، مگر یہ ایران کے لیے طاقت، اتحاد اور ہوشیار سفارتکاری کا مظہر ثابت ہوئی۔ ایرانی کمانڈروں جیسے جنرل موسوی، جنرل حاتمی، جنرل پاکپور اور دیگر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ایران کی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ بھرپور ہوگا۔ یہی عزم ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کی اصل ضمانت ہے۔
