لائی لا کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے جسٹس پرشانت کمار کی اس دلیل کو فوجداری قانون کی سنگین غلط تشریح قرار دیا۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کہا، ’’یہ سمجھنا کہ فوجداری مقدمے کے ذریعے بقایا رقم وصول کی جا سکتی ہے، نہ صرف غلط ہے بلکہ قانون کی بنیادی فہم کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
عدالت نے مزید کہا کہ یہ تصور ہی ناقابل قبول ہے کہ فوجداری کارروائی کو دیوانی عمل کا متبادل بنایا جائے، خاص طور پر صرف اس بنیاد پر کہ دیوانی مقدمہ سست ہوتا ہے۔
