پرینکا گاندھی نے کہا، ’’یہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ انسانی سانحہ تھا، جس میں 17 خاندان مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ سینکڑوں زندگیوں کا ضیاع ہوا، 1600 سے زائد عمارتیں تباہ ہوئیں اور زرعی زمین و فصلیں برباد ہو گئیں، جس سے کسانوں اور کاروباریوں کا روزگار شدید متاثر ہوا۔‘‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اپنی زندگیوں کو پوری طرح بحال نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق، مرکز کی جانب سے جو فنڈ جاری کیے گئے، وہ نہ صرف ناکافی تھے بلکہ انہیں ’قرض‘ کی شکل میں دیا گیا، جو ایک تکلیف دہ اور غیر متوقع رویہ ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا، ’’کیا ہم ان لوگوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی ازسرنو شروع کرنے کے ساتھ ساتھ قرض کی قسطیں بھی ادا کریں؟‘‘
