
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے برکس کے 17ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ترقی پذیر غیر جوہری ریاست ایران پر حالیہ امریکی اور صہیونی حملہ دنیا کے مستقبل کے امن کے لیے نہایت خطرناک نتائج کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیا گیا غیر قانونی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان غیرقانونی حملوں کے نتیجے میں 6000 سے زائد بے گناہ افراد شہید و زخمی ہوئے، جبکہ ہمارے بنیادی ڈھانچے، رہائشی علاقوں اور جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اس جارحیت نے سفارت کاری، قانون کی حکمرانی اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔
عراقچی نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملے این پی ٹی اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس نے ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو عالمی اتفاق رائے سے تسلیم کیا تھا۔ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن رہا ہے اور یہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی سخت نگرانی میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے بعد امریکہ کی یہ کارروائیاں عالمی امن کے لیے نقصان دہ عمل ہیں۔ ایک غیر جوہری ترقی پذیر ریاست پر دو ایٹمی طاقتوں کا حملہ ناقابل قبول ہے اور اس کے اثرات نہایت خطرناک ہوں گے۔ بین الاقوامی قانون اور منطق کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ محض شک کی بنیاد پر کسی ملک کی بین الاقوامی نگرانی میں چلنے والی پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے۔ ایسے حملے بین الاقوامی قوانین، بشمول IAEA قرارداد 533 اور اقوام متحدہ کی قرارداد 487 کے تحت مکمل طور پر ممنوع ہیں۔
عراقچی نے ایرانی قوم کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے عوام نے ان جارحیتوں کے مقابلے میں اپنے وطن کا بہادری سے دفاع کیا، جس کے نتیجے میں دشمنوں کو اپنے حملے روکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ہم مستقبل میں بھی ہر قسم کی جارحیت کا پوری قوت سے دفاع کرتے رہیں گے۔ لیکن جب تک اسرائیلی حکومت کے غیرقانونی رویوں کو اس کے حامیوں کی حمایت حاصل ہے، یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔
آخر میں عراقچی نے کہا کہ یہ شرمناک ہے کہ عالمی برادری گزشتہ دو برسوں سے فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے اور اسرائیل کو عرب سرزمینوں پر قبضے سے باز رکھنے میں کوئی مؤثر اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ درحقیقت، اسرائیل کی جانب سے ایران پر جارحیت اس استثنائی حیثیت اور بے لگام چھوڑنے کا نتیجہ ہے جو اسے امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی جانب سے حاصل ہے تاکہ وہ خطے میں ہر قسم کی درندگی کا ارتکاب کرسکے۔
