کربلا سے غزہ تک کی بھوک و پیاس: مسلم حکمرانوں کی بے حسی

کربلا سے غزہ تک کی بھوک و پیاس: مسلم حکمرانوں کی بے حسی پر ایک نظر
تحریر: سید جعفر حسین

آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں مظلوم انسانیت خون میں نہا رہی ہے، خاص طور پر فلسطین کا محصور علاقہ غزہ، جہاں معصوم بچے، عورتیں، اور بزرگ پیاس اور بھوک کی شدت سے دم توڑ رہے ہیں، وہاں دنیا کی خاموشی افسوسناک ضرور ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز مسلم حکمرانوں کی بے حسی ہے۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر وہ دین اسلام، جس نے اخوت، بھائی چارہ، اور مظلوم کی مدد کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، آج کے مسلمان حکمرانوں پر کیوں اثرانداز نہیں ہو رہا؟ اسلام کی تعلیمات کی روح اگر زندہ ہوتی، تو آج غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی چیخیں عرب حکمرانوں کے دل چیر دیتیں، لیکن افسوس کہ ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اس کی اصل وجہ شاید کربلا سے دوری اور جذبۂ حسینی سے نا آشنائی ہے۔

کربلا فقط ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک ابدی درس ہے — مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا، ظلم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا، اور باطل کے خلاف سینہ سپر ہونے کا۔ جو قومیں کربلا کے پیغام سے دور ہو گئیں، وہ صرف دنیاوی لحاظ سے نہیں، روحانی طور پر بھی ذلت کا شکار ہو گئیں۔ آج کے حکمران اگر واقعاً حسینؑ کے ماننے والے ہوتے، تو غزہ کے یتیم بچوں کے آنسو انہیں راتوں کو سونے نہ دیتے۔ مگر یزیدی فکر میں رنگے یہ حکمران صرف اقتدار، مفادات اور دنیاوی آسائشوں کے اسیر ہو چکے ہیں۔

ایران کا اسلامی انقلاب دنیا کے سامنے وہ عملی مثال ہے جس نے جذبۂ حسینی کو فقط کتابی بات نہیں رہنے دیا، بلکہ عمل میں ڈھال کر یزیدی قوتوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ آج جب دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ اور اس کی ظالمانہ پالیسیوں کے سامنے سر جھکا چکے ہیں، ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے وقت کے یزید کی بیعت کو ٹھکرا کر واضح کر دیا کہ حسینی ہونا محض دعویٰ نہیں، عمل کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران آج مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہے، غزہ کے مظلوموں کا دفاع کر رہا ہے، اور دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ جو حسینؑ کے غم کو دل میں رکھتا ہے، وہ پیاسوں سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔

کربلا اور عاشورا کی یاد انسان کو عزت دیتی ہے، کیونکہ یہ درس دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف قیام ہی زندگی کا اصل مفہوم ہے۔ جو اس راہ سے دور ہو جاتا ہے، وہ صرف راہِ حق سے نہیں، اپنی انسانیت، عزت اور مقصدِ حیات سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ وہ رسوا ہوتا ہے، گمراہ ہوتا ہے، اور ذلت و پستی کی گھاٹیوں میں جا گرتا ہے۔

آج کا مسلمان اگر واقعی کربلا کا پیروکار بننا چاہتا ہے، تو اسے مظلوم کی حمایت میں آواز بلند کرنی ہوگی، ظالم کے خلاف قیام کرنا ہوگا، اور اپنے حکمرانوں سے جواب طلب کرنا ہوگا۔ حسینیت صرف ماتم کرنے کا نام نہیں، یہ ظلم کے خلاف آوازاور مظلوم سے وفا کا پیغام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *