انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 سے 2021 کے درمیان دہلی میں 1.33 لاکھ درختوں کے کٹنے کی اجازت دی گئی، یعنی ہر سال اوسطاً 44,000 درخت کاٹے گئے، جو ہر گھنٹے تقریباً 5 درختوں کے برابر ہے۔ یہ دہلی کے سبز احاطے پر ایک ہولناک حملہ ہے۔
یادو نے زور دے کر کہا کہ ہر تعمیراتی منصوبے سے قبل ٹری سینسس (درختوں کی مردم شماری) لازمی قرار دی جائے تاکہ درختوں کی تعداد، اقسام، عمر اور صحت کی معلومات دستیاب ہوں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ رپورٹ عوام کے لیے جاری کی جائے اور اس کی نگرانی ایک آزاد ادارے کے سپرد ہو۔ جہاں درختوں کی کٹائی تجویز کی جائے، وہاں عوامی سماعت اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لازمی ہو۔ ساتھ ہی ازسرنو شجرکاری کا آزادانہ آڈٹ بھی ہو اور اس کی نگرانی کسی تیسرے فریق کو سونپی جائے۔
