’جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی‘

بہرحال جنگ جلد ختم ہونی چاہئے اور ظالم کو اس کی سزا ملنی چاہئے اور مظلوم کو انصاف ملنا چاہئے۔ ساحر لدھیانوی نے جنگ کے تعلق سے ایک نظم تحریر کی ہے، جس کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے:

خون اپنا ہو یا پرایا ہو

نسلِ آدم کا خون ہے آخر

جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں

امن عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر

روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے

کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے

زیست فاقوں سے تلملاتی ہے

ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں

کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے

فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ

زندگی میتوں پہ روتی ہے

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور خون آج بخشے گی

بھوک اور احتیاج کل دے گی

اس لئے اے شریف انسانو!

جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے

آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں

شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *