جواب: نیپال میں یقینی طور پر ہم ’راجہ کو واپس لاؤ-دیش بچاؤ‘ کے نعرے سن رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے ایم آر ایم (بادشاہت کی بحالی کی تحریک) کہتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ سابقہ بادشاہ گیانیندر جب پوکھرا سے کھٹمنڈو آئے تھے تو ’راجہ وادیوں’ یا بادشاہت کے حامیوں نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔ پھر بادشاہت کی حمایت میں انہوں نے 28 مارچ کو ایک مظاہرہ بھی کیا جو پرتشدد ہو گیا تھا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اسے عموماً ہندوستان سے ہی آکسیجن مل رہی ہے۔
یقینی طور پر نیپالی عوام اگر بادشاہت کی واپسی چاہتے ہیں، تو اس کا کوئی نہ کوئی سبب ہوگا؟ آخرکار یہ عوام کی ہی بغاوت تھی جس نے بادشاہت کا خاتمہ کیا اور نیپال کو ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے طور پر قائم کرنے میں کردار ادا کیا۔
میں یہ تسلیم کرنے والا پہلا شخص ہوں گا کہ ہم کمیونسٹ، عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اترے اور اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے۔ عدم اطمینان موجودہ اولی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے بھی ہے۔ اس سے بے شک بادشاہت تحریک کو فروغ ملا ہے۔ اولی وہ رہنما ہیں جو کہا کرتے تھے کہ نیپال میں جمہوریت کی امید کرنا بیل گاڑی سے امریکہ جانے کی خواہش رکھنے جیسا ہے۔ یقینی طور پر یہ جمہوریت کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو وضاحت دیتا ہے۔ اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ حکومت بادشاہت کے حامیوں کو کنٹرول یا پابند کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔
