قابل ذکر ہے کہ 3 اپریل کو راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث شروع ہوئی تھی جو کہ دیر رات تقریباً 2.30 بجے تک جاری رہی۔ اس درمیان برسراقتدار طبقہ اور حزب اختلاف دونوں کے ہی لیڈران نے بل پر اپنی اپنی رائے ظاہر کی۔ این ڈی اے اراکین پارلیمنٹ جہاں بل کی حمایت میں اپنی بات رکھ رہے تھے، وہیں انڈیا اتحاد کے لیڈران نے بل کی شدید مخالفت کی۔ جب اس بل پر ووٹنگ ہوئی تو حمایت میں 128 اور خلاف میں 95 ووٹ پڑے۔ اس طرح لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا سے بھی وقف ترمیمی بل پاس ہو گیا۔
