آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیۃ علمائے ہند اور دیگر تنظیموں نے اس بل کو وقف املاک کے تحفظ پر حملہ قرار دیا ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے وقف جائیدادوں پر سرکاری کنٹرول بڑھایا جا رہا ہے اور اسے قانونی چیلنج دیا جائے گا۔ ادھر، کانگریس، ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اس بل کو چیلنج کریں گے۔
دہلی میں جامع مسجد، اوکھلا، سیلم پور، بٹلہ ہاؤس اور ترکمان گیٹ جیسے علاقوں میں پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔ جمعرات کو بھی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے ان علاقوں میں حالات کا جائزہ لیا اور امن کمیٹیوں اور مساجد کی انتظامیہ سے رابطہ قائم رکھا۔ خدشہ ہے کہ نماز جمعہ کے بعد احتجاج یا مظاہرے ہو سکتے ہیں، اسی لیے ڈرون کیمروں اور سی سی ٹی وی کے ذریعے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
