ممبئی کی ہانڈی والی مسجد میں علمائے کرام، ائمہ اور مدرسہ کے اساتذہ کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی اور اس وقف بل کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی گئی۔


فائل تصویر آئی اے این ایس
وقف بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے ممبئی میں علمائے کرام اور ائمہ کی ایک ہنگامی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں کہا گیا ہے کہ وقف بل 2024 کو لے کر ملک میں جس طرح کی ہنگامہ آرائی ہوئی ہے وہ بہت تشویشناک ہے، خاص کر ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے یہ ‘کرو یا مرو’ کی صورتحال ہے کیونکہ اس بل کے ذریعہ جان بوجھ کر مسلمانوں کی املاک کولینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میٹنگ سے متعلق پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جس طرح وقف بل پر کمیٹی بنائی گئی اور عوام کی رائے حاصل کرنے کے بعد بھی مودی حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے کے لیے پیش کیا۔ یہ ملک کے آئین کو پامال کرکے وقف اراضی پر زبردستی قبضہ کرنے کی سیدھی کوشش ہے۔ اس سلسلے میں منگل یعنی یکم اپریل کو رضا اکیڈمی نے ممبئی کی ہانڈی والی مسجد میں فوری اثر سے علمائے کرام، اماموں اور مدرسوں کے اساتذہ کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی اور اس بل کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ وقف بل 2024 مسلمانوں کی جائیدادوں پر قبضے کی براہ راست سازش ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل نہ صرف خلاف آئین ہے بلکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر بھی حملہ ہے، انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں کی مذہبی املاک پر بھی حملہ ہو رہا ہے۔ کل یہ پارسی برادری، سکھوں، بدھ مت اور دیگر مذہبی مقامات پر بھی پہنچے گا۔ اگر اس قانون کو نہ روکا گیا تو کوئی بھی گرودوارہ، پارسی اگنی مندر یا کوئی اور مذہبی مقام محفوظ نہیں رہے گا، اس لیے تمام مذاہب کے لوگوں کو اس آمرانہ حکومت کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
