اسٹارمر نے محض 2 سال قبل لیبر پارٹی کو انتخاب میں زبردست فتح دلائی تھی۔ پارٹی کو 174 سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی۔ اس وقت اسے لیبر پارٹی کے لیے ایک نتیجہ خیز سیاسی واپسی تصور کیا گیا تھا۔


i
برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے استعفیٰ کی قیاس آرائیاں گزشتہ کئی دنوں سے چل رہی تھیں، اور بالآخر آج انھوں نے استعفیٰ کا اعلان کر ہی دیا۔ حالانکہ انھوں نے کہا ہے کہ آئندہ وزیر اعظم منتخب کیے جانے تک وہ برطانیہ کے وزیر اعظم بنے رہیں گے۔ لیبر پارٹی کے اندر بڑھتے دباؤ کے درمیان امید کی جا رہی تھی کہ وہ پیر کے روز عہدہ سے ہٹنے کا اعلان کریں گے، کیونکہ اس سے پارٹی لیڈرشپ میں ہونے والی تبدیلی کا راستہ ہموار ہوگا۔
واضح رہے کہ اسٹارمر نے محض 2 سال قبل لیبر پارٹی کو انتخاب میں زبردست فتح دلائی تھی۔ پارٹی کو 174 سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی۔ اس وقت اسے لیبر پارٹی کے لیے ایک نتیجہ خیز سیاسی واپسی تصور کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ان کی مدت کار کئی تنازعات اور پالیسی پر مبنی تبدیلیوں کے سبب لگاتار سرخیوں میں رہا۔ وہ دباؤ کا بھی سامنا کرتے نظر آئے اور کئی پالیسی پر مبنی فیصلوں میں یو-ٹرن لینے کو بھی مجبور ہوئے۔ ان کی مدت کار ایک طرح سے مختلف تنازعات کی زد میں رہی، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج انھیں وزیر اعظم عہدہ سے استعفیٰ کا اعلان کرنا پڑا۔
بزرگوں کے لیے ’ونٹر فیول ادائیگی‘ سے جڑے فیصلہ اور واشنگٹن میں پیٹر مینڈیلسن کو برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کا فیصلہ سب سے زیادہ تنازعہ کا سبب بنا۔ ان فیصلوں نے ان کی لیڈرشپ صلاحیت پر سوال کھڑے کیے اور پارٹی کے اندر عدم اطمینان کو فروغ دیا۔ حالیہ مینڈیٹ سروے میں لیبر پارٹی کی حالت کمزور دیکھنے کو ملی، اور وزیر اعظم اسٹارمر کی مقبولیت کا گراف بھی بہت نیچے گیا۔
حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پارٹی کے کئی اراکین پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ اگر قیادت میں تبدیلی نہیں کی گئی تو آنے والے انتخابات میں لیبر پارٹی کو شدید نقصان ہو سکتا ہے اور ’ریفارم یو کے‘ کے لیڈر نائزل فیراز کے اقتدار میں آنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی کے اندر قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ تیز ہوا۔
کیر اسٹارمر کے استعفیٰ کے بعد برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کی ریس میں لیبر پارٹی کے اینڈی برنہم سب سے آگے نظر آ رہے ہیں۔ انھوں نے اسی ہفتہ شمالی انگلینڈ کی میکرفیلڈ سیٹ کے باوقار ضمنی انتخاب میں فتح حاصل کی ہے۔ دیگر لیڈران کے مقابلے ان کا دعویٰ مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔ پارٹی اصولوں کے مطابق کسی بھی قائدانہ چیلنج کے لیے کم از کم 20 فیصد اراکین پارلیمنٹ کی حمایت ضروری ہے، یعنی تقریباً 81 اراکین اپرلیمنٹ کا اتفاق لازم ہے۔ وزیر صحت رہے ویس اسٹریٹنگ نے بھی قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن ان کی حمایت کے لیے تذبذب والا ماحول ہے، کیونکہ کئی اراکین پارلیمنٹ ممکنہ فاتح کے حق میں جھکتے دکھائی دے رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

