رپورٹ کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے پارک سنگ جے کے لیے 20 سال قید کی سزا کی سفارش کی تھی، تاہم سیول سینٹرل ضلعی عدالت نے سزا میں مزید 5 سال کا اضافہ کرتے ہوئے انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا تو وہ شواہد کو ضائع یا متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں فوراً تحویل میں لے لیا گیا۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق پارک سنگ جے نے 3 دسمبر 2024 کو یون سک یول کی جانب سے مارشل لا کے اعلان کے بعد وزارت کے سینئر حکام کا اجلاس طلب کیا تھا اور بغاوت سے متعلق سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔
