سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی امن مذاکرات ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ مستقبل کے مذاکرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا لبنان میں حملے بند ہوتے ہیں


i
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات ایک بار پھر پٹڑی سے اتر گئے۔ ایرانی وفد نے ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے احتجاج میں اتوار کو مذاکرات کے پہلے دور کو مختصراً ترک کر دیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی نے معتبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کے سخت بیانات اور فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد ایرانی فریق نے انہیں مذاکراتی ماحول کے خلاف سمجھا اور احتجاجاً میٹنگ ہال چھوڑ دیا۔
ٹرمپ کی جارحانہ بیان بازی کا اثر مذاکرات کے مقام پر بھی محسوس کیا گیا۔ ایرانی وفد نے امریکی حکام کے ساتھ مجوزہ فوٹو سیشن میں شرکت سے انکار کر دیا۔ ایران کی تسنیم خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مذاکرات شروع ہونے سے قبل منتظمین اور امریکی وفد نے دونوں فریقین کے درمیان مصافحہ اور مشترکہ تصویر کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر غالباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شرکت سے انکار کر دیا۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ میں شائع خبر کے مطابق پریس ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکی فریق کے ساتھ باضابطہ اعتراض درج کرایا جس کے بعد مذاکرات کا پہلا دور شروع ہوا۔ تاہم، پہلے دور کے اختتام کے بعد، ایران نے لبنان میں مکمل جنگ بندی کے حل ہونے تک مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت سے انکار کر دیا۔ سوئٹزرلینڈ میں بات چیت شروع ہونے کے چند منٹ بعد، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم، ٹروتھ سوشل پر ایران کے لیے ایک دھمکی آمیز پیغام پوسٹ کیا۔ انہوں نے کہا، “ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنے بھاری مالی امداد والے پراکسی گروپس کو روکنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم ایران پر ایک اور بڑا حملہ کریں گے، جو پچھلے ہفتے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ ہے۔”
امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی آمیز پوسٹ کے فوراً بعد ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر غالباف نے سخت ردعمل جاری کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کو اپنی زبان سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر غالباف نے کہا، “کیا وہ نہیں سمجھتے کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو وہ آج اس مایوس کن صورتحال میں نہ ہوتے؟ ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، انہیں اپنے بیانات سے زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ ہماری مسلح افواج ان کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، وہ جو بھی کہیں گے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔”
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنانے اطلاع دی ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں جنگ کے خاتمے، پابندیوں میں ریلیف اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ایرانی وفد کے ایک رکن نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور پابندیوں میں نرمی جلد ہی نافذ کر دی جائے گی۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اور مذاکراتی ٹیم کے رکن اسماعیل نے کہا کہ اتوار کو ہونے والی بات چیت کے دوران دنیا بھر کے بینکوں میں منجمد ایرانی رقوم کی رہائی بھی ایک اہم مسئلہ تھا۔ یہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی اہم شرائط میں سے ایک ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے قطری حکام کے ساتھ ان فنڈز کے اجراء کے عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کے مذاکرات سے قبل تسنیم نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ مفاہمت کی یادداشت یعنی ایم او یو کی تمام شرائط ہمارے حق میں ہیں اور یہ ان مذاکرات کے نتائج میں سامنے آجائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت قطر میں ایران کے 6 ارب ڈالر منجمد کر دیے جائیں گے۔ پیزشکیان نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت سے سب سے زیادہ غیر مطمئن ہوں گے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ “امریکہ کی شرط صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس ایٹمی بم نہیں ہونا چاہئے، یہ وہی بات ہے جو ہمارے شہید قائد نے بھی بار بار کہی تھی کہ ایران کو ایٹمی بم نہیں چاہئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

