
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور روس نے دوطرفہ تجارت کو آسان بنانے، مالیاتی لین دین کی لاگت کم کرنے اور آزاد بینکاری و ادائیگی کے نظام قائم کرنے کے لیے نئے مالیاتی انتظامات پر پیش رفت کی ہے۔
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی اور روسی مرکزی بینک کی گورنر ایلویرا نابیولینا نے روس میں ملاقات کے دوران بینکاری تعاون کے فروغ، دوطرفہ تجارت میں اضافے اور شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے دوران عبدالناصر ہمتی نے حالیہ امریکی۔اسرائیلی جارحیت کے دوران رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ایرانی شہریوں کی شہادت پر روسی حکام کی جانب سے اظہار ہمدردی کے پیغامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اور عوام نے اس جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور تہران، ماسکو کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
روسی مرکزی بینک کی سربراہ نے تیسرے ممالک سے آزاد مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں قومی کرنسیوں کے وسیع استعمال اور بینکاری روابط کو مضبوط بنانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں پر پابندیوں کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے ایران اور روس کے مرکزی بینکوں کے درمیان ایک مستقل مشترکہ بینکاری کمیٹی کو فعال بنانے پر اتفاق کیا، جو مشترکہ مالیاتی اور بینکاری منصوبوں پر عملدرآمد کی نگرانی اور رفتار تیز کرے گی۔
روس کے دورے کے بعد عبدالناصر ہمتی نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بنانے کے لیے نئے مالیاتی طریقہ کار تیار اور مضبوط کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد بینکاری رکاوٹوں کا خاتمہ، لین دین کی لاگت میں کمی اور آزاد مالیاتی راستوں کی تشکیل ہے۔
انہوں نے اس دورے کو محض سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ غیر ملکی تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ایک عملی مشن قرار دیا۔ ان کے مطابق روسی مالیاتی حکام اور اقتصادی شعبے کے نمائندوں سے ہونے والی بات چیت میں ایسے مالیاتی نظام کی تشکیل پر توجہ دی گئی جو روایتی پابندیوں سے ہٹ کر ہو اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے مالیاتی صلاحیتوں سے فوری استفادہ ممکن بنائے۔
عبدالناصر ہمتی نے زر مبادلہ کی منڈیوں کے انضمام اور اس کے کاروباری شعبے پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک کی پالیسی کا مقصد اقتصادی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے لیے لین دین کی لاگت کم کرنا اور ایسا استحکام پیدا کرنا ہے جس سے روس کے ساتھ برآمدات و درآمدات کرنے والے تاجروں کو شرح مبادلہ اور رقوم کی منتقلی کے حوالے سے زیادہ اعتماد حاصل ہو۔
