عالمی یوم حضرت علی اصغرؑ، ایران بھر میں جانثار ماؤں اور شیرخواران حسینی کے روح پرور اجتماعات

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محرم الحرام کے پہلے جمعہ کو عالمی یوم حضرت علی اصغر علیہ السلام کے موقع پر ایران بھر کے شہروں اور دیہات میں روح پرور اور باوقار ’شیرخواران حسینی کے اجتماعات منعقد ہوئے، جن میں ہزاروں ماؤں نے اپنے شیرخوار بچوں کے ہمراہ شرکت کرکے حضرت علی اصغرؑ، شہید شش ماہہ کربلا، کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اجتماعات اور مجالس میں شریک ماؤں نے اپنے بچوں کو سبز سربند پٹیاں پہنائیں جن پر حضرت علی اصغرؑ کے مبارک نام درج تھے۔ مائیں حضرت ربابؑ کے غم میں نوحہ و لوریاں پڑھتی رہیں اور کربلا کے اس دردناک منظر کو یاد کرکے اشک بار ہوگئیں جب امام حسینؑ نے اپنے چھ ماہ کے پیاسے بچے کو دشمن کے سامنے بلند کرکے پانی طلب کیا تھا۔

ایران کے مختلف علاقوں کی مساجد، عزا خانے اور امام بارگاہ ماؤں اور بچوں سے بھر گئے، جہاں عزادار خواتین نے نذرنامہ بھی پڑھا اور اپنے بچوں کو امام زمانہؑ کی نصرت اور اسلامی اقدار کے دفاع کے لیے نذر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ماؤں نے اپنے شیرخوار بچوں کو حضرت علی اصغرؑ کی یاد میں بلند کرکے اشکِ غم بہائے اور نہضتِ عاشورا کے پیغامِ صبر، استقامت اور قربانی کی تجدید کی۔

اس سال کی تقریبات میں حضرت ربابؑ کے غم کے ساتھ ساتھ مزاحمت اور استقامت کا رنگ بھی نمایاں رہا۔ کئی مقامات پر ماؤں نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مقاومتی محاذ کے مجاہدین اور شہداء کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

تقریبات کے دوران ’’لبیک یا حسینؑ‘‘، ’’اللہ اکبر‘‘ اور دیگر انقلابی نعروں کی صدائیں بھی گونجتی رہیں، جب کہ ماؤں نے حضرت علی اصغرؑ کی پیاس کے عالم میں شہادت کو یاد کرتے ہوئے اپنے بچوں کو یکساں لباس اور ’’یا حسینؑ‘‘، ’’یا علی اصغرؑ‘‘ اور ’’یا زہراؑ‘‘ کے سربند پہنا کر سوگواری کی۔

ہمارے غم اہلِ بیتؑ کے مصائب کے سامنے نہایت معمولی ہیں

اجتماع میں شریک ایک خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ کے صدمے بہت بڑے اور بھاری ہیں، لیکن میں ہمیشہ اپنے دل میں یہ دہراتی رہتی ہوں کہ یہ رنج و غم اہلِ بیتؑ کے عظیم مصائب کے مقابلے میں شمار کرنے کے بھی قابل نہیں۔ ہم نے صرف ان مصائب کے بارے میں سنا ہے، جبکہ اہلِ بیتؑ نے انہیں عملاً برداشت کیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ فیض اور یہ روحانی کیفیت ہمارے گھر کو بھی نصیب ہوئی تاکہ ہم ان عظیم غموں کا کچھ حصہ سمجھ سکیں۔

چالیس روزہ جنگ کے دوران امریکی اور صہیونی بمباری سے شہید ہونے والے شہید محمد علی کی والدہ اپنی گفتگو کے دوران کئی بار شہید رہبر کی جدائی کے گہرے غم اور محرم کی عزاداری کی مجالس میں ان کی عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ہمارے عزیزوں کی جگہ خالی ہے اور شہید امام کی عدم موجودگی میرے لیے نہایت سخت اور تکلیف دہ ہے۔

شہدائے شجرۂ طیبہ کی مائیں، امامِ عصرؑ کے سپاہیوں کی تربیت کا نمونہ

اس سال یہ پروگرام میناب اور پورے ہرمزگان میں ایک خاص رنگ لیے ہوئے ہے۔ میناب کی ماؤں نے 28 فروری کو اس عہد کو پورا کیا جو وہ ہر سال محرم کے پہلے جمعے کو اپنے امامِ زمانہؑ سے کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو حضرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی مبارک آمد اور ایران پر قربان ہونے کے لیے نذر کیا۔ آج یہی مائیں خالی آغوشوں کے ساتھ حضرت علی اصغرؑ کے خیمے میں حاضر ہوئی تھیں تاکہ میناب اور ہرمزگان کی دیگر مائیں بھی ان ماؤں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے عہد کو امامِ عصرؑ کے ساتھ تازہ کریں۔

میناب کے شہدائے شجرۂ طیبہ کی مائیں عہد کی وفاداری اور حضرت ولی عصر ارواحنا لہ الفداء کے جان نثار سپاہیوں کی تربیت کا بہترین نمونہ ہیں؛ ایک ایسا نمونہ جسے معاشرے میں مزید فروغ دینے اور زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

لوریاں؛ ایثار کی معراج کی ایک داستان

عزاداروں کے عظیم ہجوم کے درمیان سبز اور سیاہ کپڑوں سے مزین ننھے ننھے جھولے ہر دیکھنے والے کے دل کو غمگین کر رہے تھے۔ ان ماؤں کے ہاتھوں میں، جن کی آنکھیں عقیدت کے آنسوؤں سے نم تھیں، ایسے شیرخوار بچے موجود تھے جنہوں نے امام زمانہؑ کے سپاہیوں کا لباس پہن رکھا تھا اور حضرت علی اصغرؑ کے غم میں عشق کے میدان میں حاضر ہوئے تھے۔

ماؤں کی  لوریاں نیند کی دھن نہیں بلکہ بیداری کا عہد تھیں؛ مکتب عاشورا سے عشق کا سبق سیکھنے کی دعوت تھیں۔ ہر لوری قتل گاہ کی گہرائی میں موجود چھ ماہ کے مظلوم بچے کی مظلومیت کی ایک داستان تھی اور ہر جھولا ’’علقمہ‘‘ کی ایک علامت تھا؛ وہ مقام جہاں تاریخ کی عظیم ترین قربانی رقم ہوئی۔

بچوں کے رونے کی آوازیں اور ماؤں کی سوز بھری صدائیں میناب کی جامع مسجد کے ماحول میں گونج رہی تھیں۔ یہ وہ مائیں تھیں جو اپنے بچوں کو قیام مہدوی کے لیے نذر کرنے اور حضرت اباعبداللہؑ کے چھ ماہ کے شہید فرزند کے وسیلے سے دینی اقدار کے ساتھ اپنی وفاداری کے عہد کی تجدید کرنے کے لیے یہاں آئی تھیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *