انہوں نے کہا کہ حلقہ بندی کے عمل کے لیے ایک طے شدہ آئینی ڈھانچہ موجود ہے۔ پہلے مردم شماری ہونی چاہیے، اس کے بعد کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور پھر حلقہ بندی کا عمل آگے بڑھنا چاہیے۔ سچن پائلٹ کے مطابق مقررہ طریقہ کار کے بغیر حلقہ بندی کرنا صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو غیر آئینی، غیر اخلاقی اور دستور کے منافی ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کس نوعیت کے طریقے اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن آئینی اداروں اور جمہوری روایات کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو عوام برداشت نہیں کریں گے۔
