ٹیلیگرام پر عارضی پابندی معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ آج سنائے گا فیصلہ، سبھی کی نظریں مرکوز

معاملہ کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کا موقف رکھنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ٹیلیگرام کا تکنیکی ڈھانچہ دیگر سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز سے کافی مختلف ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹیلیگرام / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>ٹیلیگرام / آئی اے این ایس</p></div>

i

user
google_preferred_badge

دہلی ہائی کورٹ آج (19 جون) ٹیلیگرام کی عرضی پر حکم سنانے والا ہے، جس پر سبھی کی نظریں مرکوز ہے۔ اس عرضی میں مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے عارضی پابندی کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے نیٹ ری-اگزام کے پرچہ لیک ہونے کے سنگین خدشات کے باعث یہ پابندی عائد کی ہے۔ یہ پابندی 22 جون تک مؤثر رہنے والی ہے۔ جسٹس تیجس کریا نے اس معاملے میں دونوں فریقوں کے دلائل بغور سنے اور 18 جون کو سماعت مکمل ہونے کے بعد انہوں نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

ٹیلیگرام نے عارضی پابندی سے متعلق حکومت کے اس قدم کو غیر مناسب قرار دیا ہے۔ حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم امتحان کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ پرچہ لیک جیسی وارداتوں کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اب عدالت کا یہ فیصلہ اس پورے معاملے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ جسٹس تیجس کریا کی سربراہی والی تعطیلاتی بنچ نے ٹیلیگرام کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل دھرو مہتا اور مرکزی حکومت کا مؤقف رکھنے والے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

معاملہ کی سماعت کے دوران تشار مہتا نے کہا کہ ٹیلیگرام کا تکنیکی ڈھانچہ دیگر سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز سے کافی مختلف ہے۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم پر بڑی تعداد میں بوٹس بنائے جا سکتے ہیں اور ان کے ذریعے کسی بھی مواد کو تیزی سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلط معلومات اور غیر قانونی مواد پر قابو پانا زیادہ چیلنجنگ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ضوابط کی پابندی نہ کرنے کے باعث کئی ممالک نے ٹیلیگرام کے خلاف کارروائی کی ہے۔

سماعت کے دوران تشار مہتا نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کابینہ سکریٹری کی سربراہی والی ایک جائزہ کمیٹی نے ٹیلیگرام کے حکام کے دلائل بھی سنے تھے اور ان کا ریکارڈ تیار کیا تھا۔ ٹیلیگرام کی جانب سے دلیل دی گئی کہ قانون اس طرح کی تقسیم یا الگ الگ زمروں کی بنیاد پر کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر حکم کی بنیاد ہی غلط ثابت ہو جائے تو پورا حکم برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے ٹیلیگرام کے اس مؤقف کو ریکارڈ پر لیا اور کہا کہ معاملے کے دونوں پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔ ٹیلیگرام نے مرکزی حکومت کے حکم میں قانونی خامیوں کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ تاہم، دوسری جانب جائزہ کمیٹی نے متفقہ طور پر عبوری ہدایات کو برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *