درخواست گزار کا موقف ہے کہ ایسی صورتحال میں دوبارہ تقرری کرکے انہیں اضافی وقت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی استدلال ہے کہ بغیر منتخب کئے گئے افراد کو بار بار وزیر مقرر کرنے کی اجازت دینا پارلیمانی جمہوریت، نمائندہ حکومت، اجتماعی ذمہ داری اور انتخابی جوابدھی کے اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پیر کو سماعت کے دوران درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے بہار حکومت، دیپک پرکاش اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا۔
ایم ایل سی نہیں، پھر بھی وزیرکیسے؟ دیپک پرکاش کی تقرری پر بہار حکومت، الیکشن کمیشن اور متعلقہ فریق کو سپریم کورٹ کا نوٹس
