مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سمجھوتے پر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے، جہاں اپوزیشن رہنما یائیر لاپیڈ نے مجوزہ معاہدے کو وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے لیے ایک بڑی سیاسی شکست قرار دیا ہے۔
لاپیڈ کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گا، کیونکہ نہ ایران کا نظام تبدیل ہوگا، نہ اس کا میزائل پروگرام ختم ہوگا اور نہ ہی وہ اپنی جوہری سرگرمیوں کو دوبارہ منظم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگا۔
انہوں نے نتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے بعد اسرائیل اپنی قومی سلامتی کے فیصلوں میں خودمختار حیثیت کھو بیٹھے گا اور اسے دوسروں کی شرائط پر عمل کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول حکومتی بیانات، تشہیری مہمات یا جدید ذرائع ابلاغی حربے بھی اس ناکامی کو چھپا نہیں سکیں گے۔
اسی دوران اسرائیلی ویب سائٹ والا نے بھی نتن یاہو کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگی راستے پر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن نتیجے میں انہیں سیاسی دباؤ، شدید تنقید اور آئندہ انتخابات سے قبل بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
