تصاویر اور فن خطاطی کی نمائش کا وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کے ہاتھوں افتتاح۔عامر علی خان اور اوصاف سعید کی تقاریر 

تاریخی عمارتوں پر بلڈوزر کاروائی تاریخ اور تہذیب کو مٹانے کی کوشش

تصاویر اور فن خطاطی کی نمائش کا اظہر الدین کے ہاتھوں افتتاح۔عامر علی خان اور اوصاف سعید کی تقاریر

 

حیدرآباد۔13/جون۔ تاریخی عمارتیں اپنے عہد کے تہذیب، ثقافت، رواداری کی گواہ ہوتی ہیں۔ انہیں بلڈوزرس کے ذریعہ مسمار کرنا تہذیب اور تاریخ کو مٹادینے کے مماثل ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مقررین نے کے این واصف کی تصاویر اور غوث ارسلان کے خطاطی کی نمائش کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ جس کا افتتاح 13جون کی شام ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین نے کیا۔ ڈاکٹر اوصاف سعید آئی ایف ایس سابق سکریٹری وزارت خارجہ ہند، جناب عامر علی خان ایڈیٹر سیاست مہمانان خصوصی تھے۔

 

ممتاز آرکیٹیکٹ مسٹر وشوناتھ اور جناب فضل الرحمن خرم ڈائریکٹر ڈان اسکول، جناب ایم اے ماجد شہ نشین پر موجود تھے۔ محمد اظہر الدین نے کے این واصف کے کیمرے سے ہندوستان کے مختلف شہروں کی تاریخی عمارتوں کی تصاویر اور غوث ارسلان کے مختلف خطوں میں قرآنی آیات اور غالب، اقبال، مولانا رومی کی اردو اور فارسی اشعار کی کو خطاطی کے پیش کئے جانے پر خراج تحسین پیش کیا۔

 

اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اوصاف سعید نے دونوں فنکاروں کی اپنے فن سے جنون کی حد تک محبت تصاویر کے ذریعے تاریخ اور خطاطی کے ذریعے رسم الخط کے تحفظ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس موقع پر ادارہ سیاست کے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ جس نے تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے تحفظ اور نئی نسل تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا

 

۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ شکاگو میں کونسل جنرل تھے تب عظمت حیدرآباد کے عنوان سے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں سیاست کی جانب سے کئے گئے خطاطی کے نمونوں کی نمائش کی گئی تھی۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ جب کسی قوم کو برباد کرنا ہوتا ہے تو اس کی زبان اور تہذیب کو تباہ کیا جاتا ہے۔

 

انہوں نے موجودہ حالات کے پس منظر میں کہا کہ ایسی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم وہ مایوس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے کے این واصف اور غوث ارسلان نے تصاویر اور خطاطی کے نمونوں کے ذریعے تاریخی سفر کو بیان کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہذیب اور زبان دونوں زندہ ہے اور رہیں گے۔ انہوں نے دونوں فنکاروں کومشورہ دیا کہ وہ ٹرسٹ قائم کریں تاکہ ان کے بعد بھی ان کا مشن جاری رہے۔ مسٹر وشوناتھ آرکیٹیکٹ نے قطب شاہی، مغلیہ، کاکتیہ، فن تعمیر کا جائزہ پیش کیا۔

 

جناب ایم ماجد صدر تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے خیر مقدم کیا اور اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ چند دنوں میں بے شمار تاریخی عمارتیں بلڈوزر کے ذریعے زمین دوز کی جاچکی ہیں۔ جناب کے این واصف نے فوٹو جرنلسٹ کی حیثیت سے اپنے طویل کیرئیر پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے تصاویر لی ہیں، جو ان کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا سرمایہ ہے۔ انہوں نے جناب حامد انصاری (سابق صدر جمہوریہ و سفیر) اور ڈاکٹر اوصاف سعید سے اظہار تشکر کیا، جن کی حوصلہ افزائی نے انہیں تصاویر کی نمائش کی ترغیب دی۔

 

جناب غوث ارسلان نے فن خطاطی کی تاریخ بیان کی۔ اردو کیلی گرافی میں نئے فاؤنٹس کے ایجاد کی ضرورت پر زور دیا۔ جناب مکرم فاروقی شہباز، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اس تقریب میں ڈاکٹر مصطفی کمال ایڈیٹر شگوفہ، انورادھا ریڈی،بشارت علی انجینئر،عدنان سالم، مظفر احمد، رفیعہ نوشین، ڈاکٹر اشرف، عبد الجبار گلوبل این آر آئی فورم، ڈاکٹر عطیہ ارسلان، حکیم غلام محی الدین، جعفر حسین ایڈیٹر صدائے حسینی، جے ایس افتخار بھی موجود تھے۔ جناب ضیاء الرحمن نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ غوث محی الدین نے مہمانوں کو گلدستے پیش کئے اور امجد علی نے شکریہ ادا کیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *