جماعت اسلامی ہند ،حلقہ تلنگانہ کے شعبہ ادارہ جات کے زیرِ اہتمام اساتذہ کے لئے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد
جدید تدریسی مہارتوں، بچوں کی نفسیات، تعلیمی قیادت اور ڈیجیٹل تعلیم پر ماہرین کے خطابات
قائم مقام امیر حلقہ جناب ایم۔ این۔بیگ زاہد، ماہرِ تعلیم شاہد علی حسرت ، پروفیسر محمود صدیقی، جناب اقبال حسین و دیگر کی شرکت
جماعت اسلامی ہند ،حلقہ تلنگانہ کے شعبہ ادارہ جات کے زیرِ اہتمام حلقہ آفس مہدی پٹنم میں منعقدہ اساتذہ کی دو روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ اس ورکشاپ میں مختلف اسکولوں کے 80 سے زائد اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں، کلاس روم مینجمنٹ، تعلیمی منصوبہ بندی، طلبہ کی نفسیات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے روشناس کرانا تھا
تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری ادارہ جات جناب اقبال حسین نے اساتذہ کی مسلسل تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’ایک اچھا سیکھنے والا ہی ایک اچھا استاد بن سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے تعلیمی میدان میں نئے تقاضے پیدا کر دیے ہیں، جن سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے۔پروگرام کے پہلے دن معروف ماہرِ تعلیم شاہد علی حسرت نے ’’مضمون کی منصوبہ بندی اور پیریڈ پلاننگ‘‘ کے موضوع پر عملی ورکشاپ منعقد کی۔
انہوں نے تدریس میں منصوبہ بندی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا اصل مرکز تدریس نہیں بلکہ طلبہ کا سیکھنا (Children Learning) ہونا چاہیے۔ ادارہ جات کی ٹیم کے رکن شفیق احمد نے اسکولوں کے وژن اور مشن پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔بعد ازاں Teach For India کے فیلو اور اکیرتہ فاونڈیشن کے بانی نعمان اشرف نے ’’Effective Classroom Management‘‘ کے موضوع پر ورکشاپ منعقد کی،
جس میں اساتذہ کو کلاس روم کے نظم و ضبط، طلبہ کی فعال شمولیت اور مثبت تعلیمی ماحول کی تشکیل کے عملی طریقے بتائے گئے۔ جناب حافظ محمد رشادالدین ،معاون امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند ،حلقہ تلنگانہ نے اپنے خطاب میں رسول اکرم ﷺ بحیثیتِ معلم عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے اساتذہ کو قوم کا معمار قرار دیا اور ان پر اپنی ذمہ داریوں کو احساسِ جوابدہی کے ساتھ ادا کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹی جناب عبدالصمد العمودی اور جناب مرزا رحمت علی بیگ نے جدید تدریسی طریقوں کا تعارف کروایا۔
ورکشاپ کے دوسرے دن پروفیسر محمود صدیقی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ’’بچوں کی نفسیات‘‘ کے موضوع پر جامع ورکشاپ منعقد کی۔ انہوں نے طلبہ کی نفسیاتی ضروریات، کمرہ جماعت میں پیش آنے والے نفسیاتی چیلنجز اور ان کے موثر حل پر روشنی ڈالی۔ اساتذہ نے اس موضوع پر اپنے سوالات اور تجربات پیش کیے جن پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔پروفیسر سمیع صدیقی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ’’تدریس میں ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال‘‘ کے موضوع پر ورکشاپ پیش کی
۔ انہوں نے جدید تعلیمی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل کلاس روم، آن لائن وسائل اور مصنوعی ذہانت (AI) کے تعلیمی استعمال کا تعارف کرواتے ہوئے اساتذہ کو عملی مشق بھی کروائی۔ریاضی کے ماہر فراز محی الدین، ایس سی ای آر ٹی کے ریسورس پرسن سید خالد اور محترمہ اسرا خاتون نے بالترتیب ریاضی، سائنس اور انگریزی کی تدریس میں پیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل پر اظہارِ خیال کیا۔
مقررین نے جدید تدریسی حکمت عملیوں اور عملی مثالوں کے ذریعے تعلیمی عمل کو مزید موثر بنانے کے طریقے بیان کیے۔اختتامی اجلاس سے قائم مقام امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند ،حلقہ تلنگانہ جنا ب ایم۔ این۔بیگ زاہد نے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کو ملت اور قوم کی تعمیر کا اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ترقی، اخلاقی تربیت اور سماجی تبدیلی کے عمل میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ جدید مہارتوں سے خود کو آراستہ کرتے ہوئے نئی نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا فریضہ احسن انداز میں انجام دیں۔اس موقع پر جناب طارق شبیبی نے شعبہ ادارہ جات کی مختلف تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کا تعارف پیش کیا، جبکہ فراز محی الدین نے دونوں دنوں کی کارروائی کا خلاصہ پیش کیا۔
پروگرام کے مختلف مراحل میں جمیل احمد، فراز محی الدین اور دیگر کارکنان نے انتظامی و تربیتی امور کی انجام دہی میں اہم کردار ادا کیا۔شرکائے ورکشاپ نے اس دو روزہ تربیتی پروگرام کو نہایت مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے اس طرح کی تربیتی سرگرمیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

