پہلے عبوری معاہدہ نافذ ہوگا، جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں ہوگی: عباس عراقچی

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عباس عراقچی نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے مسودے میں مجموعی طور پر 14 نکات شامل ہیں۔ ان نکات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، کشیدگی اور تنازعہ کا خاتمہ، نیز امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی یقین دہانی شامل ہے۔ ان کے مطابق جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر مذاکرات دوسرے مرحلے میں ہوں گے، جو تقریباً 60 دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔

عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کا انتظام جنگ سے پہلے والی صورتحال کے مطابق نہیں چلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کا اختیار ہے اور ایران اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنائے گا۔ تاہم انتظامی ڈھانچے اور خدمات کے طریقہ کار میں تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *